سیکریٹ سرویس نے ممکنہ خطرہ کے پیش نظر مجھے دوسرے طیارہ میں سفر کرنے کی ہدایت کی تھی
واشنگٹن ۔ 12 اگست (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہیکہ ترکی میں انہیں صدارتی طیارے ’’ایئر فورس ون‘‘ سے خفیہ طور پر نکلنا پڑا، کیونکہ سیکرٹ سرویس اور امریکی فوج نے کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر انہیں دوسرے طیارہ میں سفر کرنے کی ہدایت کی تھی۔ٹرمپ نے کہا: میں سیکرٹ سرویس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک اور پرواز، یعنی دوسرے طیارے پر سفر کروں۔ انہوں نے یہ وضاحت گزشتہ ماہ ترکی کے دورے کے بعد پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے کی۔ٹرمپ کے بیانات نے واشنگٹن پوسٹ میں پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کی بھی تصدیق کی۔ ٹرمپ نے ایک طیارے میں سوار ہونے کیلئے ایئرپورٹ پر موجود سامانِ رسد کے ایک کنٹینر میں چھپ کر راستہ بدلا، جبکہ ’’ایئر فورس ون‘‘، جس میں وائٹ ہاؤس کے حکام، سکیورٹی اہلکار، معاون عملہ اور صحافی موجود تھے، ترکی کی فضائی حدود سے روانہ ہوگیا۔یہ طیارہ مبینہ طور پر ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے معتبر خطرہ کے پیش نظر بطور ’’چارہ‘‘ استعمال کیا گیا۔ اوہائیو کے دورہ سے واپسی پر میڈیا سے ٹرمپ نے کہاکہ میں وہی کر سکتا ہوں جو وہ مجھے کہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایران پر اعتماد نہیں ہے۔ٹرمپ اس سے قبل قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے اور حال ہی میں تزئین و آرائش کیے گئے صدارتی طیارے میں ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچے تھے، جہاں وہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے گئے تھے۔تاہم ترکی سے روانگی کے وقت وہ اچانک ایک پرانے صدارتی طیارے میں سوار ہوگئے، جس سے نئے طیارے کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ ٹرمپ نے انقرہ سے روانگی سے قبل اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کہا تھا کہ وہ پرانے دنوں کی یاد میںہلکے نیلے رنگ کا پرانا صدارتی طیارہ استعمال کریں گے۔یہ طیارہ انقرہ سے برطانیہ کے رائل ایئر فورس بیس میلڈن ہال تک جائے گا، جبکہ نیا طیارہ بھی اسی اڈے پر رک گیا تاکہ وہاں موجود امریکی فوجی ماہرین اس کا معائنہ کر سکیں۔واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار اور اپنے جائزہ لیے گئے شواہد کے حوالے سے بتایا ہیکہ انقرہ میں کیمروں کے سامنے پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہونے کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خفیہ طور پر ایئرپورٹ کی ایک سپلائی ٹرک کے ذریعہ ایک چھوٹے فوجی طیارے سی۔32 اے تک منتقل کیا گیا، جو امریکی فضائیہ کے زیر استعمال ہے۔
اخبار کے مطابق یہ خفیہ کارروائی ٹرمپ کو لاحق ایک معتبر سکیورٹی خطرے کے باعث کی گئی تھی۔اس سے قبل سال 2000 میں بھی اسی نوعیت کی ایک کارروائی کی گئی تھی، جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن پاکستان کے دورے کیلئے ایک عام کاروباری طیارے میں سفر کر کے پہنچے تھے، جبکہ ان کا سرکاری صدارتی طیارہ بطور چارہ (ڈیکوئے) استعمال کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ تازہ واقعہ میں وہ صحافی، جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ پرانے ایئر فورس ون میں سفر کر رہے ہیں، انہیں دورانِ پرواز صحافیوں کے حصے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکار بھی یہی سمجھتے رہے کہ صدر ٹرمپ اسی طیارے میں موجود ہیں، حالانکہ انہیں خفیہ طور پر دوسرے طیارے میں منتقل کیا جا چکا تھا۔