واشنگٹن : ایک صحافی کی نعش ان کے لواحقین کو سپرد کرنے سے ایرانیقائدین کے انکار کی امریکہ نے سخت مذمت کی ہے۔ مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو دینے سے انکار پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے ایک صحافی کی لاش کو ان کے اہل خانہ کے سپرد کرنے سے انکار کرنے پر ایرانی قائدین کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کی مذہبی حکومت صحافیوں سے پس از مرگ بھی خوف زدہ ہے۔ رضا حقیقت نڑاد جلاوطنی کے دوران ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو لبرٹی کے فردا کے لیے کام کرتے تھے جو کہ امریکی امداد یافتہ فارسی نشریاتی ادارہ ہے۔ کینسر کے مرض میں 17 اکتوبر کو برلن کے ایک ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ریڈیو فردا نے ان کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا کہ جب ان کی میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر شیراز لائی جارہی تھی توایران کے پاسداران انقلاب اسلامی کے اہلکاروں نے ہوائی اڈے پر اسے ضبط کر لیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعہ کے روز نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ ہمیں یہ جان کر انتہائی تکلیف پہنچی ہے کہ رضا کی میت اب بھی ہوائی اڈے پر پڑی ہے اور ایرانی اہلکار ان کے لواحقین پرکسی دوسری جگہ تدفین پر راضی ہونے کے لیے دباو ڈال رہے ہیں۔ پرائس نے ایرانی حکام سے رضا کی میت فوراً ان کے اہل خانہ کے سپرد کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ پریس کو کس حد تک ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا، رضا حقیقت نڑاد کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی قیادت صحافیوں سے مرنے کے بعد خوف کھاتی ہے۔