ایرانی قیادت میں پھوٹ پڑنے کے مزید اندیشے

   

نیویارک ؍ تہران ۔ 17 جولائی (ایجنسیز) ایک باخبر ایرانی سفارت کار نے انکشاف کیا ہے کہ تہران میں فیصلہ سازی کے حلقوں کے اندر تقسیم کی سطح بڑھ رہی ہے۔ ایک گروپ امریکہ کے ساتھ مزید تصادم کی طرف زور دے رہا ہے، جبکہ دوسرا گروپ محاذ آرائی جاری رکھنے کے معاشی اثرات سے خبردار کر رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب ایران کو عسکری دباؤ اور بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا ہے۔مذکورہ سفارتکار، جن کی شناخت اخبار نے ظاہر نہیں کی، نے بتایا کہ ایران کے اندر ایک انتہا پسند گروپ محاذ آرائی کو تیز کرنے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، کیونکہ وہ اسے واشنگٹن کے مقابلے میں دباؤ کا اہم ترین کارڈ سمجھتے ہیں۔اس کے برعکس سفارتکار نے نشاندہی کی کہ اعتدال پسند یا حقیقت پسند گروپ اس بات سے خوفزدہ ہے کہ امریکی محاصرہ اور فوجی کشیدگی جاری رہنے سے معیشت مزید تباہ ہو جائے گی۔ یہ گروپ ایسے سیاسی راستے کی تلاش کا حامی ہے جس سے ملک پر دباؤ کم ہو سکے۔یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان شدید حملوں کا تبادلہ ہو رہا ہے، جبکہ واشنگٹن پابندیاں سخت کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو دوبارہ نافذ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے اس اندرونی بحث کو بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال سے جوڑا ہے۔ اخبار کے مطابق سرکاری ایرانی اعدادوشمار کے مطابق جون میں سالانہ افراط زر کی شرح 88.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اخبار نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے حالیہ کشیدگی کی لہر سے پہلے ہی رواں سال کے دوران ایرانی معیشت کے 5.4 فیصد تک سکڑ جانے کی پیش گوئی کی تھی، جس کے بارے میں امکان ہے کہ اگر موجودہ محاذ آرائی جاری رہی تو یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اخبار نے معاشی تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کے سب سے زیادہ آمدنی والے صرف 3 فیصد خاندان ہی اب مکمل فوڈ باسکٹ خریدنے کے قابل رہ گئے ہیں، جو قوت خرید میں کمی اور روزمرہ زندگی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی واضح علامت ہے۔اخبار کی جانب سے ایرانی قیادت میں اختلاف رائے کی رپورٹ کے باوجود ایرانی حکام نے باضابطہ طور پر امریکہ کے ساتھ بحران سے نمٹنے کے حوالے سے سیاسی یا فوجی گروپس کے درمیان اختلافات کا اعتراف نہیں کیا ہے نہ ہی رپورٹ میں سفارت کار سے منسوب کیے گئے بیانات پر کوئی سرکاری ردعمل جاری کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس بات کے اشارے بڑھ رہے ہیں کہ کشیدگی کا تسلسل نہ صرف عسکری اور سکیورٹی چیلنجز پیدا کر رہا ہے، بلکہ یہ ایرانی معیشت کو بھی ایسے بڑھتے ہوئے دباؤ میں ڈال رہا ہے جو مستقبل کے مرحلے میں فیصلہ سازوں کے انتخاب پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔