تہران : مہدی محمد کرامی کی زندگی کے لیے ان کے والدین کی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں پر کم از کم 26 افراد کو پھانسی کا خطرہ ہے، یہ مظاہرے ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد حکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔’میں ماشااللہ کرامی ہوں، محمد مہدی کرامی کا والد۔‘ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں والد نے کہا،جس میں ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ماشااللہ کرامی نے ایرانی میڈیا کو بتایا تھا کہ خاندان کے وکیل کو ان کے بیٹے کے کیس تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی، اور عدالت کی طرف سے مقرر کردہ وکیل خاندان کی بار بار کال کا جواب دینے میں ناکام رہا۔انہوں نے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا کہ وہ’’کراٹے چیمپئن‘ ‘ہے۔ اس نے قومی مقابلے جیتے ہیں اور وہ قومی ٹیم کا رکن رہا ہے۔اپنے پیغام میں کرامی کے والد نے کہا ہے کہ میں احترام کے ساتھ عدلیہ سے کہتا ہوں، میں آپ سے التجا کرتا ہوں، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کے مقدمے میں سزائے موت کوختم کر دیں۔محمد مہدی کرامی کی والدہ نے بھی سزائے موت کو منسوخ کر نے کی التجا کی ہے۔