ایران اپنے ایجنٹوں کے سامنے شرمندہ، امیج متاثر

   

تہران: تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور لبنان میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کے قتل کے بعد ایران اور خطے میں اس کے ایجنٹوں اور اتحادیوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم موڑ آیا ہے۔ رہنماؤں کے قتل کا بدلہ کس طرح لیا جائے ؟ اس حوالے سے فیصلے کرنا ہے۔ایرانی امور کے ماہر جابر رجبی کے مطابق ایجنٹوں کے قیام کا بنیادی مقصد (کئی عرب ممالک میں تہران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا جن کی قیادت لبنان میں حزب اللہ کر رہی ہے) ایرانی حکومت کو خطرے سے بچانا تھا اور دوسرا ان کو علاقائی اور بین الاقوامی مذاکرات میں ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ تیسرا مقصد ان ایجنٹس کے ذریعے نشانہ بنائے گئے ممالک کو متاثر کرنا تھا۔جابر رجبی نے میڈیاکو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ درحقیقت ایران نے کئی سالوں کے دوران کسی حد تک یہ تین اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ وہ تنازعات میں براہ راست مداخلت سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس نے مذاکرات میں ٹرمپ کارڈ کے طور پر پراکسیوں سے فائدہ اٹھایا اور مراعات حاصل کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ عراق، یمن، شام، لبنان حتیٰ کہ افریقہ میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بہت زیادہ اثر انداز ہونے اور ان ممالک کی اندرونی سیاست میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہا۔