واشنگٹن۔ 8 اگست (ایجنسیز) ایران جنگ کے دوران امریکی تیل کمپنیوں کے غیر معمولی منافع نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ماحولیاتی اور صارف تنظیموں نے ونڈ فال پرافٹس ٹیکس کا مطالبہ کردیا ہے جب کہ ڈیموکریٹ رہنما بھی اس تجویز کی حمایت کررہے ہیں۔ یہ مطالبہ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا کہ بڑی کمپنیاں پیٹرول کی قلت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کمپنیاں بہت زیادہ رقم کما رہی ہیں اور مزید یہ کہ منافع کا حصہ عوام کو ملنا چاہیے۔ واضح رہے کہ شیورون نے دوسری سہ ماہی میں تقریباً 12 ارب ڈالر آمدنی بتائی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تقریباً 400 فیصد اضافہ تھا۔ دوسری جانب ایکسون موبل کا منافع بھی دوگنا سے زیادہ بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہوگیا۔ دریں اثنا پبلک سٹیزن کے ٹائسن سلوکم نے ٹرمپ سے خصوصی ٹیکس کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے صدر کی موجودہ تنقید کو سابقہ پالیسیوں سے متصادم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات نے تیل کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔ اسی دوران ٹرمپ کی ذاتی سرمایہ کاری بھی زیر بحث آگئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان کی 2025 مالیاتی تفصیلات میں ایکسون موبل اور شیورون میں سرمایہ کاری ظاہر ہوئی ہے۔ اس معاملہ نے سیاسی بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔ صورت حال کے پیش نظر ڈیموکریٹ سینیٹر شیلڈن وائٹ ہاؤس اور رکن کانگریس رو کھنہ بھی خصوصی ٹیکس چاہتے ہیں۔ ان کی تجویز ہے کہ حاصل شدہ رقم شہریوں کو ایندھن کی مہنگائی سے ریلیف دینے پر خرچ کی جائے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ حکومت پیداوار بڑھا کر توانائی کی قیمتیں کم کرنا چاہتی ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے ایک ٹریکر نے مختلف تصویر پیش کی ہے، جس کے مطابق جنگ کے بعد امریکی صارفین 78 ارب ڈالر اضافی ادا کرچکے ہیں۔