ایران مزید تعاون کرے ، آئی اے ای اے کی قرارداد

   

تہران : ایران کو اقوامِ متحدہ کے ایٹمی توانائی کے نگراں ادارے کے ساتھ تعاون فوری طور پر بہتر بنانا ہوگا۔ یہ بات ایٹمی توانائی کے نگراں ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ نے ایک قرارداد میں کہی ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ ایران جامع مزاکرات کا آغاز کرے۔ آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ نے ایک نئی قرارداد منظور کی ہے جسے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ نے پیش کیا تھا۔ اس میں ایران کی جانب سے آخری وقت میں یورینیم کی افزودگی محدود کرنے کے اقدام کو ناکافی قرار دیا گیا تھا۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اقدام قرارداد کو روکنے کے لیے تھا۔ ایران ایسی قراردادوں پر اعتراض کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس کا بھی جواب دے گا۔ اس سے پہلے ایران نے ایٹمی توانائی کے ادارے کے بورڈ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اپنے ملک میں ادارے کی نگرانی محدود کر دی تھی اور یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کردیا تھا جو ادارے کے مطابق ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ رہا ہے۔ چین، روس اور برکینا فاسو نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، 19 ممالک نے حمایت کی اور 12 ممالک غیر حاضر رہے۔ اس سے پہلے 2022 کی جون اور پھر نومبر میں منظور کی گئی قراردادوں میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر آئی اے ای اے کو یورانیم کے نمونے حاصل کرنے کی اجازت دے۔ اب نئی قرارداد میں ادارہ سے کہا گیا کہ وہ ایران کے نیوکلیر پروگرام پر اپنا جامع اور تازہ جائزہ بیان کرے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام کس مرحلے میں ہے اور ایران کے تعاون کی سطح کیا ہے۔