تہران :ایران کے شہر ’کازرون‘ میں 25 اکتوبر کو نمازِ جمعہ کے بعد امام محمد صباحی کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ 1979 میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد یہ تیسرا واقعہ ہے جب امام کا قتل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جنوبی ایران کے کازرون میں پیش آیا۔واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سربراہی میں سرکاری مذہبی حکام کا انتخاب کیا جاتا ہے اور یہ منتخب حکام ہی امام کی تقرری کرتے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امام جمعہ پر حملہ کرنے والے حملہ آور نے خود کشی کر لی ہے۔ ایران کی تحقیقاتی ایجنسی ’بیخرد‘ نے ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر امام کے حملے کو دہشت گردانہ حملہ کہنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق امام پر ہوئے حملے کے پیچھے قاتل کی ذاتی وجوہات بھی کارفرما ہو سکتی ہیں۔ایران کی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز نے حملہ آور کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس شخص کا ماضی میں مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے۔ حملہ آور نے 20 سال قبل بھی دھماکہ خیز مواد کا استعمال کر کے ایک جج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ جج پر حملہ کے بعد جنوب۔مغربی ایران کے گچسرن میں بمباری کے ساتھ ساتھ چوری اور رشوت خوری کے الزام میں وہ چھ سال جیل میں بھی قید تھا۔