ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے معاہدہ پر دستخط :پزشکیان

   

جنیوا، 21 جون (یواین آئی) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کی درخواست پر جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی مرحلے پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور یہ بات پہلے سے طے شدہ فہم و تفہیم کا حصہ ہے جو واشنگٹن کے ساتھ جاری ہے ۔پزشکیان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کا حصہ ہے اور ایران کا مؤقف اس معاملے میں واضح اور مستقل ہیکہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔دریں اثنا ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ لبنان کی صورتحال، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے ، امریکہ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت کا بنیادی موضوع ہوگا۔ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے تحت ہو رہے ہیں۔بقائی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور یہی معاملہ بات چیت کا مرکزی نکتہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایجنڈے میں ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کا معاملہ بھی شامل ہے ، ساتھ ہی ایرانی تیل کی فروخت کیلئے ضروری اجازت نامے جاری کرنے پر بھی گفتگو ہوگی۔سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان نئی مذاکراتی نشست شروع ہوئی تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایرانی وفد کے احتجاج کے باعث مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہوسکا۔ یہ مذاکرات پہلے سے طے شدہ مفاہمتی معاہدے کی بنیاد پر ہو رہے تھے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کے پاس ہے ۔ ثالثوں کی موجودگی میں سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات آج صبح شروع ہوئے تھے ۔