ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے

   

تہران، 17جولائی (یو این آئی) ایران نے امریکہ کی جانب سے مسلسل چھٹی رات فضائی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے کر دیے ۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملوں میں کویت میں امریکی فوج کی تعیناتی اور لاجسٹک سپورٹ مراکز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے بحرین کے سخیر ایئر بیس پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کے دباؤ اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ادھر قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مسلح افواج نے ملک کو نشانہ بنانے والے متعدد میزائل حملے ناکام بنا دیے ۔ قطری وزارتِ داخلہ کے مطابق حملوں کے دوران گرنے والے ملبے سے 1 بچہ زخمی ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دوحہ میں متعدد دھماکے سنے گئے ، شہریوں کو موبائل فونز پر سیکیورٹی الرٹس جاری کیا گیا۔ ادھر بحرین میں بھی سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو قریبی محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت کی گئی۔
کسی امریکی قیدی کو ایرانی جیلوں سے رہا
نہیں کیا گیا، ایران کی تردید
تہران، 17 جولائی (یو این آئی) ایران نے امریکی خاتون کو رہا کرنے کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر آئی بی کے مطابق ایران کی عدلیہ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تہران کی جانب سے ایک امریکی قیدی کو رہا کیے جانے کے دعوے کی تردید کی ہے ۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے عدلیہ کے ایک نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ کے جھوٹ کے برعکس، کسی امریکی قیدی کو ایرانی جیلوں سے رہا یا کسی کے ساتھ تبادلہ نہیں کیا گیا۔ چہارشنبہ کے روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں 2024 میں گرفتار کی گئی ایک امریکی خاتون قیدی کو رہا کر دیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے اس خیرسگالی کے اقدام کو سراہتا ہے۔ تاہم ایرانی عدلیہ کے ذرائع کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تفصیلات یا کسی بھی دوسری تفصیل سے مطابقت رکھنے والے کسی امریکی قیدی یا جاسوس کو ایرانی جیلوں سے رہا یا کسی کے ساتھ تبادلہ نہیں کیا گیا۔
دوبارہ کشیدگی کے باوجود ایران سے
بات چیت جاری ہے : امریکہ
واشنگٹن، 17 جولائی (یو این آئی) وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ دوبارہ کشیدگی کے باوجود ایران سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے ، صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتکاری کیلئے اب بھی تیار ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی کے باوجود واشنگٹن تہران سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کو اس وقت جواب دہ ٹھہرائیں گے جب وہ امریکہ سے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹے گا، تاہم وہ سفارت کاری کیلئے بھی ہمیشہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے صدر ٹرمپ کو اب بھی معاہدہ کرنے کی خواہش سے آگاہ کیا ہے اور امریکہ تہران سے بات چیت کر رہا ہے ۔ کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے اور ایران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف واپس نہ آیا تو امریکہ حملوں کا دائرہ کار بڑھا کر بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔
وائٹ ہاؤس کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کی تردید
واشنگٹن، 17 جولائی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان ملاقات سے متعلق زیرِ گردش خبریں امریکی میڈیا نے بے بنیاد قرار دے دیں۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام حالیہ دنوں اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے اسرائیلی میڈیا پر یہ رپورٹس پڑھیں کہ صدر ٹرمپ پیر کو اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی میزبانی کریں گے ۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہیکہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو پاگل قرار دے دیا رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نیتن یاہو ایک ایسی ملاقات کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کر رہے تھے جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ ایک اور عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے ترکیہ کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی مجوزہ امریکی فروخت پر عوامی سطح پر تنقید کیے جانے سے ناراض تھے ۔ ایکسیوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ٹرمپ اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور واشنگٹن میں اسرائیلی رہنما کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے ۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں امریکی میڈیا کی جانب سے خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے ، وہ جانتے ہیں کہ باس کون ہے ۔