تل ابیب : اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے منگل کوکہا ہے اسرائیل ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی طاقت سے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ امریکی صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ملیشیاؤں کو 250 ارب ڈالر کی منتقلی کی اجازت دے گا۔اخبار “ٹائمز آف اسرائیل” کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں رابطے میں ہے جس کا مقصد تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے نیوکلیئر معاہدے کو بحال کرنا ہے۔اخبار کے مطابق انہوں نے زور دے کر کہا کہ تل ابیب “کسی بھی معاہدے کا فریق نہیں بنے گا۔”اسرائیلی انتباہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی قومی سلامتی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے حساس فائلوں میں رعایتیں دی ہیں۔تاہم مشرق اور مغرب کی جانب سے آنے والے بیانات کے باوجود ایک امریکی اہلکار کے مطابق نئے نیوکلیئر معاہدے تک پہنچنے کے امکان کو لے کر اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔اس اہلکار نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابھی بھی کچھ خلا موجود ہے۔یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نیکہا ہے کہ نیوکلیئر مذاکرات میں حصہ لینے والے بیشتر ممالک نے یورپی متن یا تجویز سے اتفاق کیا ہے۔اسپانوی ٹیلی ویڑن کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے اکثر متفق ہیں، لیکن میرے پاس ابھی تک امریکہ کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں ہے، جس کی میں اس ہفتے کے دوران توقع کرتا ہوں۔