واشنگٹن : 25جون ( یو این آئی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہ کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ معاملات میں بڑی رعایتیں دے رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے طے شدہ معاملات پر عمل نہ کیا تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں جبکہ انہوں نے ایران کو منجمد اثاثوں سے رقوم دینے کی خبروں کی بھی سختی سے تردید کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو چیف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی ہر بات مان رہا ہے اور اسے ایسا کرنا بھی پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملات بہت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور تہران کی جانب سے نمایاں رعایتیں دی جا رہی ہیں۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاملات پر عمل درآمد نہ کیا تو امریکہ وہی کرے گا جو اس کے لیے ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ٹرمپ نے ایران سے متعلق منجمد اثاثوں کی رقوم جاری کیے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے اور نہ ہی اسے ایسی کسی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول یا اضافی مالی بوجھ نہ ڈالنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم پیش رفت ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کو امریکی کسانوں سے خوراک خریدنی چاہیے اور اس کی ادائیگی منجمد ایرانی اثاثوں میں سے کی جا سکتی ہے۔
آئی سی سی ججز کا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ
دی ہیگ : 25جون ( یو این آئی ) بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے 3 ججوں نے امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے خود پر عائد پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ججوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے اور انہیں دباؤ میں لانے کے لیے کیے گئے۔گزشتہ روز مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں کینیڈا کی جج کمبرلی پروسٹ، یوگنڈا کی جج سولومی بالونگی بوسا اور بینن کی جج رین ایڈیلیڈ سوفی الاپینی گانسو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد عدالت کے ججوں کو سزا دینا اور ان کے فیصلوں پر غیر عدالتی دباؤ ڈالنا تھا۔یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عدالت نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جبکہ اس سے قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز بھی کیا گیا تھا۔