ایس آئی آر اسکام کروڑہا رائے دہندوں کے نام حذف

   

روش کمار
کیا ہمارے ملک میں ایک نیا مائیگریشن چل رہا ہے؟ ہاں ایسا ہی لگتا ہے کہ ہندوستان میں ایس آئی آر مائگریشن جاری ہے۔ دنیا میں اس قسم کا یہ پہلا مائیگریشن ہے جس میں ایک ریاست کی فہرست رائے دہندگان سے لاکھوں لوگ کہیں منتقل ہورہے ہیں۔ کہاں منتقل ہورہے ہیں کسی کو پتہ نہیں۔ ایس آئی آر میں شفٹ ہونے والے یا اپنے پتے پر عدم دستیاب رائے دہندگان کی تعداد 4.5 کروڑ نکلی ہے یہ تعداد 9 ریاستوں اور 3 مرکزی زیرانتظام علاقوں کی فہرست رائے دہندگان کے مسودہ کی ہے یعنی فہرست مسودہ کی ہے۔ ہم یہ معلومات دکن ہیرالڈ کی رپورٹ سے آپ کو فراہم کررہے ہیں۔ اتنے سارے لوگ الگ الگ ریاستوں سے کہاں منتقل ہورہے ہیں کہاں جاکر بس رہے ہیں اس کا پتہ نہیں چل پا رہا ہے کیونکہ کسی بھی ریاست میں ایس آئی آر کی ڈرافٹ لسٹ میں رائے دہندوں کی تعداد میں اضافہ تو نہیں ہورہا ہے۔ اگر 4.5 کروڑ رائے دہندوں کے نام مستقل طور پر منتقل ہونے یا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے فہرست رائے دہندگان سے ہٹائے گئے ہیں تو یہ تعداد کہیں تو بس جانی چاہئے کیا ان لوگوں نے خلاء میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت کوئی پلاٹ خرید لیا ہے اور وہیں گھر بنا کر رہ رہے ہیں اور مداروں کے پیچھے گھوم رہے ہیں اسی لئے ہم نے اسے ایس آئی آر مائیگریشن کہا ہے۔ ایسا مائیگریشن جو زمین پر نہیں الیکشن کمیشن کی تیار کردہ فہرست رائے دہندگان میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ ایس آئی آر کی مسودہ فہرست میں دہلی سے 31.6 لاکھ رائے دہندے ایسے ہیں جو کہیں منتقل ہوگئے ہیں۔ دی ہندو کی سوریچی کماری اور ارون دیپ کے جائزہ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ دہلی سے 31 لاکھ لوگ مستقل طور پر کہاں منتقل ہوگئے؟ کیوں چلے گئے۔ دہلی سے ایک سال کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگ منتقل ہوگئے اور کسی کو پتہ نہیں چلا۔ آنند وہار بس اڈے پر ہجوم بھی نظر نہیں آیا۔ دہلی کی سڑکوں، بسوں اور میٹرو دیکھ کر کیا کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ اس شہر سے31 لاکھ لوگ ایک سال کے اندر چلے گئے ہیں کیا ہوا ہے دہلی کو؟ کیا دہلی میں کام ملنا بند ہوگیا، کوئی وبا پھیل گئی، کسی اور ریاست میں دہلی سے بہتر مزدوری ملنے لگی، کونسی ایسی ریاست ہے جہاں دہلی سے لوگ بھاگ کر جارہے ہیں۔ تھوڑی دیر کیلئے ہم مان لیتے ہیں کہ یو پی بہار، راجستھان اور مدھیہ پردیش چلے گئے ہوں گے۔ مستقل طور پر منتقل ہونے والے اور عدم دستیاب رہنے والوں کی تعداد ہر جگہ جوڑ کر بتائی جاتی ہے۔ اسی حساب سے اترپردیش سے 2 کروڑ 17 لاکھ رائے دہندے دوسرے مقامات کو منتقل ہوچکے ہیں۔ بہار کی مسودہ فہرست سے 36 لاکھ رائے دہندے مستقل طور پر شفٹ ہوگئے۔ مدھیہ پردیش سے منتقل ہونے والوں کی تعداد 31 لاکھ ہے تو راجستھان سے مستقل طور پر منتقل ہونے والوں کی تعداد 29.6 لاکھ ہے۔ اب آپ بتائیے کہ صرف یوپی سے سوا دو کروڑ رائے دہندے مستقل طور پر منتقل ہوگئے یہ کہیں تو جاکر جڑ رہے ہوں گے یا غائب ہورہے ہیں۔ یہ غضب کا مائیگریشن ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ساڑھے چار کروڑ مائیگرنٹس مزدور ہیں جو اپنی اپنی ریاستوں کو چھوڑ کر گئے ہیں۔ چھوڑ کر جانے کی وجہ سے وہاں سے ان کا نام حذف کردیا گیا اور جس ریاست میں گئے وہاں کے مقامی نہیں ہونے کی وجہ سے ان کا نام حذف ہوگیا۔ یہ تب پتہ چلے گا جب الیکشن کمیشن کو 4.5 کروڑ لوگوں کے نام کے ساتھ ساتھ ان کے ایڈریس بھی جاری کرے گا اور وہاں جاکر باقاعدہ آڈٹ کیا جاسکے گا۔ پھر تو ایسے رائے دہندوں کا نام ڈپلیکیٹ ووٹر میں آنا چاہئے مگر دہلی میں ہی ڈپلیکیٹ رائے دہندوں کی تعداد دو لاکھ بھی نہیں ہے تو اس بھرم میں مت رہئے گا کہ یو پی بہار اور دہلی کے لوگ ٹاملناڈو اور کرناٹک چلے گئے ہوں گے وہاں بھی ان دو ریاستوں سے ایک کروڑ 78 لاکھ رائے دہندے کے نام مسودہ فہرست سے اسی بنیاد پر حذف کئے گئے ہیں کہ وہ مستقل طور پر کہیں شفٹ ہوگئے ہیں یا اپنے ایڈریس پر نہیں پائے گئے ہیں۔ کیا یہ دنیا کا پہلا مائیگریشن اسکام ہے اور اگر ہے تو کیوں نہیں ساری سیاسی جماعتیں اپنی پوری طاقت اس کے یپچھے لگادیں۔ میڈیا کا پورا گوشہ اس کے پیچھے کیوں نہیں لگا ہے۔ کیوں اس ملک میں سب انسٹی ٹیوٹ ہی اکیلا ہے جو مسلسل ایس آئی آر کے اعداد و شمار کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس میں پائے جانے والے تضاد کو اعدادوشمار کی گڑبڑ کو آپ کے سامنے لارہا ہے۔ میڈیا میں بھی گنتی کے دو تین صحافی ہیں جو ان اعدادوشمار کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہی کام کررہے ہیں۔ باقی سارے لوگوں نے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ اصول و قواعد کے مطابق اسی رائے دہندہ کو عدم دستیاب یا کسی اور مقام پر منتقل قرار دیا جاتا ہے جب بی ایل او تین مرتبہ اس کے گھر جاتا ہے اور اسے وہاں کوئی نہیں ملتا۔ کیا اس میں کوئی بھی گڑبڑ کا امکان نہیں ہوسکتا۔ بی ایل اوز نے ساڑھے چار کروڑ رائے دہندوں کے گھر جاکر تین تین بار جاکر تصدیق کی ہیکہ وہ پتہ پر موجود نہیں ہیں کہیں منتقل ہوگئے ہیں۔ کیا اتنی بڑی آبادی کو اس طرح سے دھوکہ میں رکھا جاسکتا ہے کہ 4.5 کروڑ لوگوں سے ان کا حق رائے دہی چھینا جاسکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی سوربھ بھردواج نے کرشنا نگرکی ویمن کالونی سے حذف کئے گئے رائے دہندوں کا ایک صفحہ ٹوئیٹ کیا ہے ان کا کہنا ہیکہ الیکشن کمیشن نے ایسے لوگوں کے نام تو دیئے ہیں جو اپنے پتہ پر نہیں پائے گئے مگر ان کا پتہ اور فون نمبر نہیں دیا ہے۔ ایسے میں کوئی سیاسی جماعت کیسے جاکر معلوم کرے گی کہ یہاں رہنے والا فرد کہیں اور منتقل ہوگیا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ دہلی جیسی ریاست میں ایک تہائی رائے ہندوں کے نام حذف کئے جارہے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے کیا حکومت یہ کہنا چاہتی ہیکہ وہ تمام لوگ بنگلہ دیشی ہیں، پاکستانی ہیں یا یہ لوگ بھوت پریت تھے جو اتنے برسوں سے بار بار حکومتیں بنارہے تھے مگر اب وہ لوگ موجود ہی نہیں ہیں۔ صاف طور پر اس میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ہم جب الیکشن کمیشن گئے ہم نے تحریری اور زبانی طور پر کہا کہ آپ ہر بوتھ پر 300 تا 400 لوگوں کے ووٹ حذف کررہے ہیں یہ ممکن نہیں ہے مگر آپ حذف کررہے ہیں کم سے کم جن لوگوں کے نام آپ حذف کررہے ہیں ان لوگوں کی ہمیں لسٹ تو دیں۔ آپ صرف اس کا پتہ اس کا نام اور فون نمبر دیجئے اگر آپ فون نمبر نہیں دینا چاہتے ہیں تو کم سے کم پتہ تو دیجئے ورنہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کوئی پارٹی جس کو آپ ایک بوتھ پر 300 لوگوں کے نام حذف کرکے دے دو یہ کیا ہے۔ ہم تو کہتے ہیں جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے کرتوت کو کوئی نوٹ نہ کرسکے۔ آج ملک کے سامنے جو وقت ہے ایسا ہے کہ سارے ادارے بشمول الیکشن کمیشن ’’سی بی آئی حکومت کے اشاروں پر چل رہے ہیں اور ان سے لڑنا بڑا مشکل ہے‘‘۔ منتقل ہوچکے اور پتہ نہ ملنے والے لوگوں کے اعدادوشمار کو اکثر ایک ساتھ جوڑ کر بتایا جارہا ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیا دونوں ایک ہی بات ہے؟ تو پھر ایک اعدادوشمار کیوں دیا جارہا ہے۔ اگر کوئی اپنے گھر پر نہیں ملا تو اس کی تعریف شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے والے کے ساتھ آپ کیسے کرسکتے ہیں۔ دونوں کو ایک ساتھ کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ مقامی اور غیرمقامی میں فرق تو خود الیکشن کمیشن کا 2023ء کا مینول کرتا ہے پھر کیوں انہیں ایک ساتھ جوڑ کر بتایا جارہا ہے۔ اسی طرح کے سوال کرناٹک اور تلنگانہ کے مسودہ فہرست رائے دہندگان میں بھی اٹھائے گئے ہیں۔ منتقل اور غیرحاضر کے زمروں کے اعدادوشمار کو ایک ساتھ جوڑ کر بتایا گیا ہے جبکہ دونوں کے اعدادوشمار میں کوئی یکسانیت انہیں۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ حیدرآباد کی جوبلی ہلز سیٹ پر دیڑھ لاکھ لوگ SHIFTED بتائے گئے ہیں جبکہ عدم دستیاب صرف 15 ہزار بتائے گئے ہیں۔ نظام آباد اربن کی سیٹ پر 83 ہمار نام حذف کئے گئے جن میں سے 50 ہزار رائے دہندے Absent کے زمرہ میں ہیں۔