ایس آئی آر ‘ عوام تیاری کرلیں

   

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی اب ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے والا ہے ۔ اس کیلئے محض چند دن کا وقت رہ گیا ہے ۔ 25 جون سے ریاست میں باضابطہ طورپر ایس آئی ار کا عمل شروع ہوجائے گا ۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ دوسری ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی لاکھوں ووٹروں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے جاسکتے ہیں۔ اس تعلق سے ہر پارٹی اپنے اپنے بوتھ لیول اہلکاروں کو چوکس رہنے اور مستعدی کے ساتھ عوام کی مدد کرنے کی اپیل بھی کر رہی ہے ۔ صرف ایک بی جے پی ہے جو اس معاملے میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کو رائے دہدنوں کے نام حذف ہونے سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ اسے فائدہ کی ہی امید ہے ۔ اس صورتحال میں ریاست کے عوام کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ اب بھی جبکہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے دس دن کا وقت باقی رہ گیا ہے ایسے میں عوام کو اپنے طور پر تیاری کرلینے کی ضرورت ہے ۔ گذشتہ دو ماہ سے اس تعلق سے عوام میں مہم چلائی جا رہی ہے ۔ مختلف تنظیموں ‘ اداروں اور جماعتوںکی جانب سے ایس آئی آر کے سلسلہ میں رائے دہندوں کی میاپنگ کے سلسلہ میں مدد کی گئی ۔ باضابطہ کیمپس لگاتے ہوئے ان کی مدد کی گئی تھی ۔ اس کے باوجود جو لوگ میاپنگ کروانے سے رہ گئے ہیںانہیں اس معاملے میں چوکسی اختیار کرنے اور مستعد ہوجانے کی ضرورت ہے ۔ جو کچھ بھی سرکاری خانہ پری کی ضرورت ہے اس کو پورا کیا جانا چاہئے ۔ 2002 کی فہرست رائے دہندگان میں ناموںکی جانچ کرواتے ہوئے تازہ فہرست میں ناموں کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہئے ۔ جو لوگ بیرون ملک ہیں ان کے ناموں کی شمولیت کیلئے بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس معاملے میں کسی بھی طرح کی غفلت یا لاپرواہی مستقبل میں کئی مسائل اور پریشانیوں کا سبب بن سکتی ہے ۔ یہ عمل ایسا لگتا ہے کہ صرف ایس آئی آر تک محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ اسے آنے والے وقتوں میں این آر سی سے بھی مربوط کیا جاسکتا ہے اور شہریت پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں ۔
پہلے ہی کہا جا رہا ہے کہ جن افراد کے نام ووٹر لسٹ میںموجود نہیںپائے جائیں گے انہیںسرکاری اسکیمات سے فوائد حاصل کرنے کا موقع نہیںرہے گا ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں ووٹ کا حق انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اگر اس حق سے محرومی ہوجائے تو اس کے عواقب زیادہ سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ فہرست رائے دہندگان میں اپنے اپنے ناموں کی شمولیت ‘ اپنے افراد خاندان کے ناموں کی شمولیت اور اپنے پڑوس کی مدد بھی ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ جو لوگ پڑھے لکھے ہیں اور جو اس سارے عمل سے واقفیت رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ غریب اور نا خواندہ افراد کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ کچھ وقت ضرور اس کیلئے نکالیںاور اپنے آس پاس کے لوگوں کی مدد کو یقینی بنایا جائے ۔ ایس آئی آر کے سیاسی محرکات اور اثرات جو کچھ بھی ہوسکتے ہیں اس سے قطع نظر ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پہلے اپنے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں ۔ اس معاملے میں کسی طرح کی لاپرواہی یا تغافل برتنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ جو کچھ بھی سرکاری طریقہ کار ہے اسے اختیار کرتے ہوئے درکار دستاویزات کو تیار رکھا جانا چاہئے ۔ جب بی ایل اوز گھروں پر آئیں تو پوری ذمہ داری کے ساتھ ناموں کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہئے ۔ مسلسل اس معاملے پر نظر رکھی جانی چاہئے ۔ ابتدائی مراحل میںناموں کی شمولیت سے لے کر قطعی فہرست رائے دہندگان کی اشاعت تک اس معاملے میں چوکسی ‘ سرگرمی اور مستعدی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
ریاست کی تمام تر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بارہا اپنے کارکنوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے میں عوام کی مدد کیلئے ہمیشہ دستیاب رہیں اور تمام اہل افراد کے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ سیاسی جماعتوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ عوام میں اس تعلق سے شعور بیدار کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اہل رائے دہندوں کے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے ۔ جہاں کسی نا اہل فرد کا نام فہرست میں شامل نہیںہونا چاہئے وہیں کسی اہل رائے دہندہ کا نام اس سے حذف بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ سماج کے تمام طبقات کو اس معاملے میں ذمہ دارانہ رول نبھانے کی ضرورت ہے ۔