اُٹھو بلند کریں ظلم کے خلاف آواز
ہمارے لہو کی کب سے یہ دنیا پیاسی ہے
ملک کی مختلف ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے ۔ اس تعلق سے بہت پہلے ہی سے شعور بیداری کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایس آئی آر انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ناموں کی شمولیت مستقبل کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اس معاملے میں کسی طرح کی غفلت یا لاپرواہی اور تغافل مستقبل میں بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے ۔ ایس آئی آر کے ذریعہ ملک میں نئی فہرست رائے دہندگان کی تیاری عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ جو نام شامل نہیں ہیں ان کو اس میں شامل کروانا چاہئے اور حکام کی جانب سے ایسے نام حذف کردئے جانے کا اندیشہ ہے جن کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو ۔ ہم نے گذشتہ ایک سال کے دوران دیکھا کہ کس طرح سے ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل چلایا گیا ہے اور کس طرح سے کئی ریاستوں میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردئے گئے ہیں۔ کئی مقامات پر یہ تک شکایات سامنے آئی ہیں کہ فوج میں رہتے ہوئے ملک کی خدمت کرنے والے عہدیداروں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردئے گئے ۔ اس کے علاوہ نمایاں خدمات انجام دینے والے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے ۔ کچھ سیاستدانوں کے نام بھی حذف کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ زندہ موجود ہیں ان کو مردہ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے عملہ کی جانب سے نام حذف کئے گئے ہیں۔ کئی لوگ اس طرح کے واقعات پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کئی ریاستوں میں عوام کی شکایات برقرار ہیں۔ فی الحال مغربی بنگال میں لاکھوں افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردئے گئے ہیں۔ جن افراد کے پاس پاسپورٹ موجود ہے ‘ آدھار کارڈ موجود ہے ‘ سابقہ ووٹر آئی ڈی کارڈ موجود ہے اس کے باوجود ان کے نام شامل نہیں کئے گئے ہیں اور انہیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ لوگ اپنے ناموں کو شامل کروانے کیلئے کئی طرح کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اکثر معاملات میں کسی طرح کی راحت نہیں مل پا رہی ہے اور نام حذف ہو رہے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال سے تلنگانہ میں بچنے کی ضرورت ہے جس کیلئے چوکس رہنا چاہئے ۔
یہ شکایت عام ہے کہ خاص طور پر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیا جا رہا ہے اور ان کی جانب سے درکار دستاویزات اور ریکارڈز پیش کئے جانے کے باوجود ان کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ہے ۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ریاست کے تمام اہل رائے دہندے اور خاص طور پر مسلمان چوکس رہیں۔ قبل از وقت تیاری کرلیں۔ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے 2002 کی فہرست رائے دہندگان میں شامل ناموں کی پہلے سے جانچ کرلیں۔ ان کا ریکارڈ حاصل کرلیں۔ اب جو ایس آئی آر کے ذریعہ فہرست تیار کی جائے گی اس میں اپنے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ بی ایل اوز کو مکمل تفصیلات اور دستاویزات پیش کئے جائیں۔ جو نئے نام شامل کروانے ہیں ان کے تعلق سے بھی غفلت اور لاپرواہی نہیںبرتی جانی چاہئے ۔ نئے ناموں کی شمولیت کیلئے بھی سابقہ ناموں کے ساتھ میپنگ کروائی جائے ۔ ان کے دستاویزات اور ضروری کا غذات وغیرہ پہلے سے تیار کرلیں اور بی ایل اوز کو پیش کرتے ہوئے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ اس معاملے میں مکمل چوکسی اور مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ نہ صرف اپنے اور اپنے اہل خانہ کے نام شامل کروائیں بلکہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی بھی اس معاملہ میں رہنمائی کی جائے ۔ جو لوگ اس طرح کی سرکاری معلومات نہیں رکھتے اور ریکارڈز حاصل نہیں کرپاتے ان کی بطور خاص مدد کی جائے ۔ ان کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کے ناموں کی شمولیت کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے مشکلات سے بچاجاسکتا ہے ۔
اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایس آئی آر کے تعلق سے مکمل چوکسی اور مستعدی برتی جانی چاہئے ۔ کسی طرح کی غفلت یا لاپرواہی آنے والے وقتوں میں شدید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے ۔ نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب جبکہ ایس آئی آر کار عمل شروع ہونے ہی والا ہے ایسے میں قبل از وقت مکمل تیاری کرلیں۔ آس پاس کے لوگوں کی بھی مدد کی جائے ۔ رشتہ داروں اور غریب طبقہ کے عوام کی رہنمائی کی جائے ۔ تمام دستاویزات تیار رکھے جائیں اور ہر مرحلہ میں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ناموں کی جانچ کرتے رہیں ۔ کسی بھی مرحلہ پر لاپرواہی یا تغافل پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ۔ رضاکارانہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں کو بھی اس معاملے میں سرگرم رول ادا کرتے ہوئے عوام کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔
معیشت کی روانی ضروری
مشرق وسطی میں ایران کے خلاف مسلط کی گئی جنگ نے ساری دنیا میں بحران کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ جنگ حالانکہ ایک خطے میں لڑی جا رہی ہے لیکن اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کئی خطوں کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ کمرشیل گیس کی قلت جیسی صورتحال نے روزگار کے مسائل پیدا کردئے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں پرا س کے منفی اثرات ہو رہے ہیں۔ فیول مہنگا ہونے لگا ہے ۔ جنگ کے اثر سے ادویات کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ تجارتیں متاثر ہونے سے نوکریوں میں تخفیف کی جارہی ہے ۔ یہ ایسی صورتحال پر جس کو فوری بہتر بنانے پر توجہ کرنا چاہئے ۔ معاشی سرگرمیوں کی روانی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اگر معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہوجائیں تو پھر اس کے کئی شعبہ جات پر اثرات ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان میں اسی طرح کے اندیشے لاحق ہیں۔ حالانکہ صورتحال ابھی قابو سے باہر نہیں ہوئی ہے تاہم پیشگی توجہ اور درکار اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے عوام کو اگر جنگ طوالت اختیار کرجائے تب بھی مشکل حالات سے بچایا جاسکے ۔ صورتحال کے قابو سے باہر ہونے سے قبل ہی تمام تر احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بحران کی کیفیت پیدا ہونے نہ پائے ۔