ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
تلنگانہ بھر میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہوئے چار دن پورے ہوچکے ہیں۔ ان چار دنوں میںاس کام میںوہ تیزی دکھائی نہیں دے رہی ہے جو ہونی چاہئے ۔ بی ایل اوز کے ذریعہ سے جو کام کیا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ بی ایل اوز کو اس کی اہمیت کا کوئی اندازہ نہیں ہے ۔ کئی مقامات پر ابھی تک فارمس کی تقسیم تک عمل میں نہیںلائی گئی ہے ۔ عوام فارمس کے منتظر ہیں۔ بی ایل اوز کو فون کرنے پر کوئی جواب نہیں مل پا رہا ہے ۔ اگر کوئی جواب دے بھی رہا ہے تو انتہائی غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے ۔ عوام میں اس تعلق سے جو بے چینی پیدا ہوئی ہے اس کو دور کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں اور سارا عمل ایک طرح سے ابھی تک لاپرواہی کا شکار ہی ہے ۔ ایس آئی ار انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہے اور اس میں رائے دہندوں کو اپنے نام کی فہرست رائے دہندگان میںشمولیت کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ الیکشن کمیشن نے پوری تیاری کرتے ہوئے یہ کام شروع کرنے دعوی کیا ہے ۔ہر سطح پر عہدیداروں کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ اس کے باوجود بی ایل اوز کا رویہ انتہائی لاپرواہی والا ہے اور وہ اس کام کی اہمیت کو سمجھنے کو تیار نہیں ہیں ۔ وہ سرکاری دفاتر کی طرح ہی تن آسانی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ عوام لگاتار فارمس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور متعلقہ بی ایل اوز تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اکثر مواقع پر انہیں ناکامی ہاتھ آر ہی ہے ۔ کچھ مقامات پر سیاسی جماعتوںک ے کارکن ایسا لگتا ہے کہ بی ایل اوز کو عملا یرغمال بنائے ہوئے ہیں اور اپنے ہی مقامات پر انہیں بٹھاتے ہوئے فارمس کی تقسیم عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ اس سے بھی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ جن مقامات پر بیٹھ کر یہ کام کیا جا رہا ہے ان میں بھی اکثر مقامات پر بی ایل اوز دستیاب نہیں ہیں اور وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے کی بجائے اپنی ہی مصروفیات کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ جو کام اور ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے اس کو پرا کرنے پر اکثر بی ایل اوز کی توجہ ہی دکھائی نہیںد ے رہی ہے ۔
کئی مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ بی ایل اوز خود یہ کام کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوںکے کارکنوںکو یہ فارمس سونپ کر روانہ ہوچکے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنے انداز میں یہ کام آگے بڑھا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر یہل بھی دیکھا گیا ہے کہ بی ایل اوز نے کچھ اسسٹنٹ بنائے ہوئے ہیں اور انہیں فارمس سونپ کر خود بری الذمہ ہوگئے ہیں۔ ابھی چونکہ اس عمل کو شروع ہوئے چار تا پانچ دن کا ہی وقت ہوا ہے ایسے میں اس ساری صورتحال کا فوری جائزۃ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس سارے عمل کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور جو لاپرواہی اور تغافل برتا جا رہا ہے اور جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے اس کو دور کرتے ہوئے بی ایل اوز کو اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے تنبیہہ کی جائے اور جو بی ایل اوز اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہیں ان کی تبدیلی کی جائے ۔ بی ایل اوز کی لاپرواہی کی وجہ سے عوام کو مستقبل میں پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ بی ایل اوز کی وقتی لاپرواہی رائے دہندوں کیلئے ہمیشہ کا مسئلہ بن سکتی ہے اور مستقبل میں ان کی شہریت پر بھی سوال پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں متعلقہ الیکشن حکام کو اس سارے معاملے کا فوری نوٹ لینے اور بی ایل اوز کو پابند بنانے کی شدید ضرورت ہے ۔
بی ایل اوز گھروں پر پہونچنے کی بجائے کہیں بیٹھ کر یہ کام انجام دے رہے ہیں اور اگر چند لوگ وہاں جمع ہوجائیں تو پھر سارا معاملہ افرا تفری کا شکار ہو رہا ہے ۔ کسی ایک پر توجہ دیتے ہوئے کام کرنے کا موقع نہیںمل رہا ہے اور اس میں ووٹرس کیلئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اکثرمواقع پر بی ایل اوز گھروں پر پہونچنے سے انکار کر رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن اور ضلع الیکشن اتھاریٹی کوا س سارے معاملے کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔بی ایل اوز کے کام کاج کی فیلڈ دوروں کے ذریعہ نگرانی کی جانی چاہئے تاکہ عوام کو مسائل اور مستقبل کی پریشانیوں سے بچایا جاسکے اور ان کے نام ووٹر لسٹ میںشامل رہ سکیں۔