واشنگٹن: ایلون مسک 2022 کے آغاز پر 270 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص تھے۔ابھی 2022 کا اختتام تو نہیں ہوا مگر ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ٹوئٹر کے مالک 122 ارب ڈالرز سے محروم ہوچکے ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق ساڑھے 11 ماہ سے زائد عرصے کے دوران ایلون مسک 122 ارب ڈالرز سے محروم ہوچکے ہیں اور اس وقت 148 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔اس طرح ایلون مسک اب دنیا کے امیر ترین شخص نہیں رہے۔یعنی وہ ایک بار پھر دسمبر 2020 کی پوزیشن پر چلے گئے ہیں اور اس وقت دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص ہیں۔فرانس سے تعلق رکھنے والے برنادرڈ آرنلٹ نے گزشتہ ہفتے دنیا کے امیر ترین شخص بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ایلون مسک کی دولت میں 20 دسمبر کو لگ بھگ 8 ارب ڈالرز کی کمی اس وقت آئی جب ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ایلون مسک کی اس کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں جنوری سے اب تک 61 فیصد کی کمی آچکی ہے۔نومبر 2021 میں ایلون مسک کی دولت 340 ارب ڈالرز کی ریکارڈ سطح پر پہنچی تھی لیکن یکم جنوری کو 270 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد سے تنزلی کا سفر جاری ہے جس کی وجہ ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ایلون مسک ٹیسلا کے 15 فیصد حصص کے مالک ہیں تو شیئرز کی قدر میں کمی سے ان کی دولت بھی متاثر ہوتی ہے۔یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ ایلون مسک حالیہ عرصہ میں مختلف تنازعات کا شکار ہوئے ہیں ۔
ایلون مسک کا آن لائن پولنگ میں دھاندلی کا دعویٰ
نیویارک : ٹوئٹر کے سربراہ ایلون مسک نے سی ای او کا عہدہ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے سے متعلق رائے شماری کو مشکوک قرار دے دیا۔سی ای او کا عہدہ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے سے متعلق رائے شماری میں 57 فیصد سے زیادہ سوشل میڈیا صارفین نے ایلون مسک کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد انہوں نے اسے مشکوک قرار دے دیا۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر پول کی ووٹنگ میں بوٹس کے ذریعے دھاندلی کی گئی ہے۔دوسری جانب پولنگ کمپنی HarrisX نے بھی اسی حوالے سے اپنے سروے کے نتائج جاری کئے جس میں 61 فیصد جواب دہندگان نے ایلون مسک کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کمپنی کے مطابق انہوں نے یہ ووٹنگ آزادانہ طور پر کی ہے۔