ایل نینو کے اثرات ‘ عوام میں اندیشے

   

نہ پوچھ عرصۂ ہستی کی وسعت و تنگی
جو چل پڑے تو بیاباں، رکے تو زنداں ہے
ایل نینو کے اثرات کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں۔ خود حکومت کی جانب سے بارہا یہ کہا جا رہا ہے کہ ایل نینو کے اثرات سے ملک بھر میں اور خاص طور پر ریاست تلنگانہ میں شدید اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جاریہ سال اسی ایل ۔ نینو کے اثر سے ریاست میں بارش ناکافی ہوئی ہے ۔ موسم سرما کے آغاز کے وقتوں میں موسم گرم ہوگیا ہے ۔ درجہ حرارت میں اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ پانی کی قلت پیدا ہونے لگی ہے ۔ ذخائر آب کی سطح بھی کم ہوگئی ہے اور زیر زمین پانی کی سطح میں بھی خاطرخواہ گراوٹ درج کی گئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں آئندہ دس مہینوں تک صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے اور عوام کو شدید خشک سالی کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ کسانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ خشک فصلیں پیدا کرنے پر توجہ دیںا ور ترکاریوں کی کاشت کی جائے ۔ عہدیداروں کو ہدایت دیدی گئی ہے کہ وہ صرف پینے کیلئے پانی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کریں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دیگر کاموں کیلئے پانی کو ضائع نہ کیا جائے ۔ عوام کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پانی اور برقی کے استعمال میں حد درجہ احتیاط برتیں اور کفایت شعاری پر خاص توجہ دی جائے ۔ ایل ۔ نینو کے اثرات شدید ہونے سے پہلے ہی مہنگائی عروج پر پہونچ رہی ہے ۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں۔ چاول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہونچ گئی ہیں ۔ ان کی وجہ سے غریب عوام کی زندگیوں پر ابھی سے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ ان کی جیب ہلکی ہونے لگی ہے اور مڈل کلاس برادری کا بجٹ بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔ برقی کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے جبکہ پانی کی قلت کی وجہ سے برقی کی پیداوار کم ہونے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے عوام کے ذہنوں میں کئی اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں اور وہ خوف اور الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔ آئندہ دنوں میں عوام کو مزید کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں رہ گیا ہے ۔
موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے بارہا عوام میں شعور بیدار کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے اور عوام کو کفایت شعاری سے کام لینے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی ایل ۔ نینو کے اثرات شدید نہیں ہوئے ہیں لیکن یہ شبہات پیدا ہونے لگے ہیں کہ نفع خوروں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے بازاروں میں قیمتیں بڑھنے لگی ہیں اور کچھ اشیاء کی قلت بھی ہونے لگی ہے ۔ یہ مصنوعی قلت ہے جو ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے ۔ حکومت کو جہاں عوام میں شعور بیدار کرتے ہوئے اطمینان کی فضا پیدا کرنی چاہئے وہیں ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کی روک تھام کیلئے بھی خصوصی انتظامات کئے جانے چاہئیں تاکہ عوام کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچایا جاسکے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ مشکل وقت میں نفع کمانے کی کوششوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ حکومت کو اپنے اقدامات کے ذریعہ عوام کو ممکنہ حد تک راحت اور سہولیات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود غریب عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہونے نہ پائیں اور ان کی جیبوں پر غیر معمولی دباؤ نہ ڈالا جائے ۔ ویجیلنس ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے صورتحال کا استحصال کرنے والوں کا پردہ فاش کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کی ضرورت ہے ۔
مشکل حالات میں عوام کو بھی اندیشوں یا خوف کا شکار ہونے کی بجائے تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہوگی اور حکومت کی ہدایات کے مطابق عمل کرنا چاہئے ۔ پانی اور برقی کے استعمال میں حد درجہ احتیاط برتی جانی چاہئے اور اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ غیر ضروری خریداری سے نفع خوروں کو فائدہ ہوگا اور دوسرے ضرورتمند افراد کو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ جہاں عوام کو محتاط رہ کر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے وہیں حکومت کو بھی چوکس اور مستعد رہتے ہوئے عوام کے حوصلے بلند رکھنے چاہئیں ۔
ہند ۔ چین سرحد کی صورتحال
ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ایک طویل وقت سے چین سرحدات پر جارحیت کا مظاہرہ کرتا رہا ہے اور ہندوستانی سرحدات کی خلاف ورزی بھی کی جاتی رہی ہے ۔ اب سکیوریٹی حلقوں سے کہا جا رہا ہے کہ سرحد پر ہند ۔ چین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور چین کی جانب سے پٹرولنگ کے طریقہ کار کی خلاف ورزی کی وجہ سے حالات کشیدہ بھی ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چین کے عزائم اچھے نہیں ہیں اور وہ وقفہ وقفہ سے ہندوستان کے صبر کا امتحان لے رہا ہے ۔ وہ ہماری سرحدات میں در اندازی کرتا ہے ۔ کبھی فوجی ٹھکانے بنانے کی بات کی جا رہی ہے تو کبھی سڑکیں تعمیر کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے ۔ ہندوستان کی سرحدات میں مداخلت کا کسی کو اختیار نہیں ہونا چاہئے اور جہاں تک چین کا معاملہ ہے تو اس معاملہ کو مزید طوالت دینے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ہندوستان کو یہ واضح کردینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی سرحدات میں کسی طرح کی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے اور اگر چین اپنی جارحیت سے باز نہیں آتا ہے تو ہندوستان بھی اس کا منہ توڑ جواب دیگا ۔ چین کو دو ٹوک انداز میں اس کے عزائم سے روکنے میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے ۔