ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا پر52کروڑروپئے جرمانہ

,

   

مقامی ونگ میں فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے بعد ای ڈی کا فیصلہ
سابق سی ای او آکر پٹیل پر 10کروڑروپئے جرمانہ عائد‘حکومت پر انتقامی کارروائی کرنے عالمی تنظیم کا الزام
نئی دہلی : ہندوستان کی حکومت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مقامی تنظیم پر تقریباً 8 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ جرمانہ حکومت کی جانب سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مقامی ونگ کی مالی تحقیقات کے بعد عائد کیا گیا جبکہ عالمی تنظیم نے کہا ہے کہ یہ ہندوستانی حکومت کی اس کے خلاف انتقامی کارروائی کا حصہ ہے۔فارن اکسچینج مینجمنٹ ایکٹ(فیما)کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل انگلینڈ سے رقم حاصل کرنے پر اانفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حکام نے ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا پر 52کروڑروپئے اور اس کے سابق سی ای او آکر پٹیل پر 10کروڑروپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ای ڈی کا کہنا ہے کہ ایمنٹسی انڈیا کئی ایسی سرگرمیوں میں شامل ہے جو اس کے معلنہ کمرشیل بزنس سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ایف سی آر اے لائسنس کی منسوخی کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل انگلینڈ نے ایمنسٹی انڈیا کو 51.7کروڑ روپئے بھیجے ہیں ۔انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ انہیں کشمیر کے متنازعہ علاقے سمیت کئی شہروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر وزیراعظم نریندر مودی حکومت کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ایمنسٹی کے مقامی بینک اکاؤنٹس کو 2020 میں تحقیقات کے آغاز پر منجمد کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تنظیم اپنے مقامی عملے کو روکنے ‘ مہم اور تحقیقی کام کو روکنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ ہندوستان میں مالیاتی جرائم کی تحقیقات کے محکمے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایمنسٹی نے اپنے مقامی آپریشنز کو وسعت دینے کے لیے غیر ملکی امداد لے کر غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ایک بیان میں محکمے نے کہا کہ ایمنسٹی انڈیا کو غیر قانونی طور پر غیرملکی عطیات وصول کرنے پر 6.5 ملین ڈالر کا جرمانہ کیا گیا جبکہ اس کے سابق چیف ایگزیکٹو آکر پٹیل پر 1.3 ملین ڈالر کا اضافی جرمانہ عائد کیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تازہ ترین کارروائی پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ 2020 میں تحقیقات کے لیے فنڈز منجمد کیے جانے پر عالمی تنظیم نے کہا تھا کہ ہندوستان کی حکومت کی طرف سے اس کے اکاؤنٹس کو بے بنیاد الزامات پر منجمد کرنا انسانی حقوق کی تنظمیوں کے خلاف اس کی مسلسل انتقامی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ناقدین کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ہنگری کے حکمران وکٹر اوربان کی طرح ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت نے بھی انسانی حقوق کی تنظمیوں کو سخت دباؤ میں رکھنے کے لیے ان کی بین الاقوامی فنڈنگ کو ضابطوں میں جکڑ رکھا ہے۔نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد 2015 میں حکومت ہند نے ماحولیاتی تنظیم گرین پیس کے انڈیا یونٹ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے تھے۔