ایم ایل ایز خریداری کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے

   


تلنگانہ ہائیکورٹ کا فیصلہ ،خصوصی تحقیقاتی ٹیم ایس آئی ٹی اور جی اوکالعدم ،ریاستی حکومت کو جھٹکہ

حیدرآباد 26 ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کو آج اُس وقت مایوسی ہوئی جب تلنگانہ ہائیکورٹ نے بی آر ایس پارٹی کے ارکان اسمبلی کی خریدی معاملہ کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کردی۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ اِس معاملہ کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سے کروائی جائے جبکہ اِس کیس کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اور اِس ضمن میں جاریہ سال 30 اگسٹ میں جاری کئے گئے جی او کو کالعدم کردیا۔ اتنا ہی نہیں ہائیکورٹ نے اپنے احکام میں کیس سے متعلق پنچنامہ کو بھی کالعدم کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس سلسلہ میں بی جے پی قائدین نے بھی رٹ درخواستیں داخل کرتے ہوئے ارکان اسمبلی خریدی کیس کی تحقیقات کو سی بی آئی کے ذریعہ کروانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اِن رٹ درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا جبکہ اپنے ازخود فیصلہ میں تحقیقاتی ایجنسی کے حوالہ کرنے کے احکامات جاری کئے۔ واضح رہے کہ جاریہ سال اکٹوبر میں معین آباد پولیس نے ایک فارم ہاؤز پر دھاوا کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی کے 4 ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کے الزام میں راما چندرا بھارتی عرف ستیش شرما، نندا کمار اور ایک پجاری سمہا یاجی کو گرفتار کیا تھا اور اِس معاملہ کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی بھی قائم کی تھی۔ بی آر ایس پارٹی کے تانڈور رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی نے اس کیس میں سائبر آباد پولیس سے شکایت درج کرائی تھی جس پر یہ کارروائی کی گئی۔ بعدازاں چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے باضابطہ ایک پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے بی جے پی کے مبینہ ایجنٹس اور پارٹی کے ارکان اسمبلی کے درمیان ہوئی گفتگو اور اس سے متعلق تمام ویڈیوز کو میڈیا کے روبرو پیش کیا اور بعدازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور تمام ریاستوں کے ہائیکورٹس کے چیف جسٹس کو بھی اِس ویڈیو کی کاپیز روانہ کی تھیں۔ کیس میں گرفتار 3 ملزمین کو ایس آئی ٹی اپنی تحویل میں لے کر فارنسک لیباریٹری بھیج کر اُن کی آوازوں کے نمونے بھی حاصل کئے تھے اور اِس آپریشن کے بعد ریاست میں بی آر ایس پارٹی اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی تھی۔ بی جے پی قائدین نے اِس کیس میں تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے رٹ درخواستیں داخل کی تھیں اور عدالت نے اِس کی سماعت بھی کی لیکن انھیں اس بنیاد پر خارج کردیا کہ بی جے پی اس معاملہ میں فریق نہیں بن سکتی اور ان کا اس پر کوئی موقف نہیں بنتا۔ جج نے اپنے ازخود فیصلے میں ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردی۔