جوائنٹ سکریٹری گیانیش کمار نگران ہونگے ۔ عدالتی فیصلوں کے جائزہ و دیگر کاموں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی
نئی دہلی 2 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے ایک خصوصی ڈسیک قائم کیا ہے جو ایک اڈیشنل سکریٹری کیا قیادت میں کام کریگا اور یہ ڈیسک ایودھیا مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق تمام امور کا نگران کرے گا ۔ ایک سرکاری حکمنامہ وزار ت داخلہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایودھیا سے متلعق امور اور عدالتوں کے متعلقہ فیصلے اس ڈیسک کے تحت آئیں گے اور یہاں تین عہدیدار ہونگے جو ان سے نمٹنے اقدامات کرینگے ۔ یہ ڈیسک اڈیشنل سکریٹری گیانیش کمار کی قیادت میں کام کرے گا ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس ڈیسک کے قیام کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ایودھیا میں متنازعہ مقام پر رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دیدی تھی ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامہ میں حکومتوں کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ اترپردیش سنی وقف بورڈ کو ایک پانچ ایکڑ اراضی کا پلاٹ بھی دیا جائے تاکہ وہاں مسجد بنائی جاسکے ۔ اس کے علاوہ حکمنامہ میں کہا گیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کیئلے ایک ٹرسٹ قائم کیا جائے ۔ سپریم کورٹ کے احکام کی اجرائی کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے گیانیش کمار کی قیادت میں اب ایک نیا ڈیسک قائم کیا گیا ہے اور یہ ڈیسک ایودھیا مسئلہ سے متعلق تمام امور کا نگران ہوگا اور ان سے نمٹے گا ۔ یہ اطلاعات بھی گشت کر رہی ہیں کہ حکومت اترپردیش نے وزارت داخلہ کو ایک تجویز روانہ کرتے ہوئے ایودھیا میں تین پلاٹس کی نشاندہی کی ہے جن میں سے کوئی ایک اترپردیش سنی وقف بورڈ کو دیا جاسکتا ہے ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ اس طرح کے تمام امور سے یہ نیا ڈیسک نمٹے گا جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرے گا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گیانیش کمار جموںو کشمیر اور لداخ کے امور سے متعلق محکمہ کی بھی قیادت کرتے ہیں اور یہ محکمہ بھی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے ۔ مسٹر گیانیش کمار جموں و کشمیر کو خصوصی موقف دینے والے دفعہ 370 کی برخواستگی اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں بانٹنے سے متعلق اقدام کے معاملہ میں بھی ایک اہم عہدیدار تھے ۔ یا درہے کہ سپریم کورٹ نے ایودھیا مسئلہ کی طویل ترین سماعت کے بعد گذشتہ سال 9 نومبر کو فیصلہ سنادیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی دائر کی گئی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا اور مسترد کردیا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ وزارت داخلہ میں 1990 اور 2000 کی دہائی میں ایودھیا سے متعلق ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا تھا اور وہ کام بھی کر رہا تھا تاہم لبرہان کمیشن کی جانب سے انکوائری رپورٹ کی پیشکشی کے بعد اس سیل کو ختم کردیا گیا تھا۔ اسی حکمنامہ کے ساتھ مرکزی وزارت داخلہ نے یہ بھی کہا کہ داخلی سلامتی کے ڈویژن دو م کو داخلی سلامتی کے ڈویژن اول کے ساتھ م کردیا گیا ہے اور اس کو اب صرف داخلی سلامتی ڈویژن اول ہی کہا جائیگا ۔ جوائنٹ سکریٹری ( وومنس سیفٹی ) پی سلیلا سریواستو کو ضم کردہ داخلی سلامتی ڈویژن اول کا چارچ دیا گیا ہے اور وہ وزارت داخلہ میں اپنی موجودہ ذمہ داری بھی پوری کریں گی ۔