۔70 کروڑ روپئے کے غیر محسوب اثاثہ جات کا انکشاف
حیدرآباد۔ محکمہ مال کے بعد اب پولیس محکمہ کے مالداروں پر اینٹی کرپشن بیورو ( اے سی بی ) نے اپنا شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں اے سی پی اور انسپکٹر سطح کے عہدیداروں کی بدعنوانیوں کے سبب معطلی کے بعد راچہ کنڈہ میں ایک اور اسسٹنٹ کمشنر پولیس ( اے سی پی ) کے غیر محسوب اثاثہ جات کا چونکا دینے والا واقعہ منظر عام پر آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس ملکاجگیری ڈیویژن وائی نرسمہا ریڈی کے70 کروڑ روپئے کے غیر محسوب اثاثہ جات کا اے سی بی نے انکشاف کیا۔ امکان ہے کہ بہت جلد اے سی پی نرسمہا ریڈی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اے سی بی کے عہدیداروں نے اس بدعنوان پولیس عہدیدار کے خلاف کارروائی اور اس کے غیر محسوب اثاثہ جات کا پتہ چلانے کیلئے 25 مختلف مقامات پر بیک وقت دھاوے کئے اور تقریبا سارا محکمہ اس کارروائی میں مصروف تھا اور اعلیٰ عہدیدار قریب سے اس کارروائی کا جائزہ لے رہے تھے۔شہر حیدرآباد ، ورنگل، جنگاؤں ، نلگنڈہ ، کریم نگر کے علاوہ ریاست آندھرا پردیش کے اننت پور میں اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں نے نرسمہا ریڈی کے مکانات اور دفاتر پر دھاوے کئے ۔ اینٹی کرپشن عہدیداروں کے مطابق اس دھاوے کے دوران 55 ایکر زرعی اراضی کا اننت پور میں انکشاف ہوا۔ جبکہ سائبر ٹاور مادھا پور میں 1960 اسکوائر یارڈ اراضی پر مشتمل 4 پلاٹس ، ایک تین منزلہ کمرشیل عمارت، حفیظ پیٹ میں دوکانات، 15 لاکھ روپئے نقد رقم ، دو بینک لاکرس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کی گئی رقم کے تفصیلات اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کا انکشاف ہوا۔ اے سی بی ذرائع کے مطابق تحقیقات ابھی جاری رہیں گی۔ ان تمام جائیدادوں کی قیمت75 کروڑ بتائی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نرسمہا ریڈی جب اوپل کے انسپکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اس وقت اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ معاملات میں ملوث ہونے کے ان پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔ نرسمہا ریڈی کے خسر پولیس ڈپارٹمنٹ میں بحیثیت انسپکٹر جنرل خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اے سی بی عہدیدار اس معاملہ میں مزید تحقیقات کررہے ہیں۔