اے پی ٹرانسکو سے 1730 کروڑ بقایا جات کا معاملہ ہائیکورٹ سے رجوع

   

برقی اداروں کو نوٹس کی اجرائی، ملازمین کے پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں دشواری
حیدرآباد۔/11 ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کے برقی اداروں کے بقایا جات کا معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ۔ ہائی کورٹ نے آندھرا پردیش ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹیڈ ( اے پی ٹرانسکو ) اور اس کے 4 اداروں کو نوٹس جاری کی ۔ سکریٹری برقی اے پی کو بھی نوٹس جاری کی گئی اور ان تمام کو تلنگانہ کے دعویٰ پر جواب داخل کرنے ہدایت دی گئی۔ تلنگانہ ٹرانسکو اور 4 متعلقہ اداروں نے آندھرا پردیش سے 1730 کروڑ کے بقایا جات کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ جسٹس پی نوین راؤ اور جسٹس جے سرینواس راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے آئندہ سماعت 13 اکٹوبر کو مقرر کی ۔ بقایا جات کی رقم دراصل ملازمین کے پنشن، گریجویٹی، پی ایف اور ای ایل درخواستوں کی ادائیگی سے متعلق ہیں۔ تلنگانہ ٹرانسکو اور 4 اداروں نے درخواست میں کہا کہ متحدہ اے پی میں اے پی ٹرانسکو کے تحت یہ ذمہ داری دی تھی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ ٹرانسکو قائم کیا گیا۔ اے پی ٹرانسکو اور اس کے ٹرسٹ کی تقسیم نہیں ہوئی اور وہ ملازمین فنڈز کی رقم جاری کرنے سے گریز کررہے ہیں جو 1730 کروڑ ہے۔ درخواست گذاروں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تلنگانہ ٹرانسکو کیلئے ملازمین کو ادائیگی میں دشواری ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد سے برقی شعبہ کے ادارے بقایا جات کیلئے عدالتوں سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ر