ساڑیوں کی خریدی میں مبینہ بے قاعدگیاں، چیف منسٹر کی وطن واپسی کے بعد باقاعدہ اعلان
حیدرآباد۔/13 اگسٹ، ( سیاست نیوز) بی آر ایس دور حکومت میں خواتین میں بتکماں ساڑیوں کی تقسیم کی اسکیم میں مبینہ بے قاعدگیوں کی اطلاع ملنے پر حکومت نے اسکیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس حکومت ساڑیوں کے بجائے خواتین میں چاندی کا سکہ یا نقد رقم تقسیم کرنے پر غور کررہی ہے۔ بی آر ایس حکومت نے 2017 سے بتکماں کے موقع پر خواتین میں ساڑیوں کی تقسیم اسکیم متعارف کی تھی۔ بی آر ایس کا دعویٰ ہے کہ ساڑیوں کی تقسیم کے نتیجہ میں مقامی بافندوں کو فائدہ پہنچا کیونکہ حکومت نے مقامی سطح پر تیار کی گئی ساڑیاں خریدی تھی۔ گذشتہ سال غیر معیاری ساڑیوں کی تقسیم پر خواتین کی جانب سے احتجاج کے واقعات بھی پیش آئے۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد حکومت کی جانب سے بتکماں ساڑی اسکیم کے بجائے خواتین کو چاندی کا سکہ یا پھر نقد رقم حوالے کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی خواتین کو بتکماں تحفہ کے طور پر یہ پیش کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں نے 5 تا10 گرام چاندی کا سکہ یا پھر مساوی رقم تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے۔ بتکماں تہوار کے موقع پر غریب خواتین میں گذشتہ سات برسوں سے ہر سال ایک کروڑ سے زائد ساڑیاں تقسیم کی گئیں جس کے لئے 330 تا 350 کروڑ کا بجٹ مختص کیا جاتا رہا۔ سرسلہ کے بافندوں سے ساڑیاں حاصل کی گئیں اس کے علاوہ کریم نگر اور ورنگل میں مقامی بافندوں کو ساڑیوں کی تیاری کی ذمہ داری دی گئی۔ ڈسمبر 2023 میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد اسکیم پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا اور عہدیداروں سے تجاویز حاصل کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بیرونی دورہ سے واپسی کے بعد چاندی کا سکہ یا نقد رقم کے بارے میں باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔ بتکماں فیسٹول یکم تا 9 اکٹوبر منایا جاتا ہے اور کریم نگر، ورنگل اور دیگر علاقوں کے بافندوں کو حکومت کی جانب سے ساڑیوں کے آرڈر کا انتظار ہے۔1