لندن : پہلے ریلوے ملازمین، پھر ڈاک کے عملے اور بندرگاہوں کے مزدوروں نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانیہ میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے تنخواہ دار طبقے کو ’کچل‘ کر رکھ دیا ہے۔ملازمین کی طرف سے ہڑتال کی وجہ سے برطانیہ کے ٹرین نیٹ ورک کو آج جمعرات اور آئندہ ہفتے کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانوی ریلوے کے ملازمین گزشتہ تین عشروں میں سب سے بڑی احتجاجی اور ہڑتالی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران ہزاروں ریلوے ملازمین اس ہڑتال میں شریک ہوں گے۔ ریل سروس متاثر ہونے سے نہ صرف چھٹیاں منانے والوں کو مشکلات پیش آئیں گی بلکہ دفتروں میں کام کرنے والوں کا بھی نقصان ہو گا۔مشرقی انگلینڈ میں واقع برطانیہ کی سب سے بڑی مال بردار بندرگاہ ‘فیلکس اسٹو‘ کے ملازمین بھی آٹھ روزہ ہڑتال کریں گے لیکن اس سے پہلے ہفتے کے روز لندن کی زیر زمین ریلوے ‘دا ٹیوب‘ ہڑتال کی زد میں آئے گی۔ ایک بڑی برطانوی یونین ‘یونائیٹ‘ کے سربراہ شیرون گراہم کا کہنا ہے، ” اس (مہنگائی کے) بحران میں زندگی گزارنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہم ملازمتوں، تنخواہوں اور اپنی شرائط کے دفاع کے لیے، جو بھی ضروری ہے، وہ کرتے رہیں گے۔‘‘برطانیہ میں اشیائے خور و نوش اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کئی ملین شہریوں کو متاثر کیا ہے اور غربت کے شکار افراد کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس افراط زر کی شرح گزشتہ چالیس برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ یہ شرح 10 فیصد سے زائد ہو چکی ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ایک نئے وزیر اعظم کے تحت صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے کیونکہ مشکلات کے شکار بورس جانسن جلد ہی عہدہ چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔