برکس کانفرنس میں گوٹیرس مدعو، یوکرین کی تنقید

   

کیف: یوکرین نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کے خلاف سخت غم و غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس کی وجہ گوٹیرس کو ‘ برکس کانفرنس ‘ میں شرکت کیلئے روسی صدر پوتن کی دعوت قبول کرنا بنا ہے۔ یوکرینی وزیر خارجہ نے غم و غصے کا کیا ہے۔انہیں گلہ ہے کہ اس سے قبل یوکرین بارے امن کانفرنس سے گوٹیرس نے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی تھی۔وزارت خارجہ یوکرین نے ‘ ایکس’ پر لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے سوئٹزرلینڈ میں ‘ یوکرین کیلئے امن کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اب روس کے صدر جوکہ جنگی مجرم ہیں ان کی طرف سے دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ ان کی طرف سے ایک غلط انتخاب ہے۔ جو امن کے ‘کاز’ کے بالکل حق میں نہیں ہے۔ ‘ یہ امن کانفرنس سوئٹزرلینڈ میں ماہ جون میں ہوئی تھی۔ واضح رہے اسی ہفتے پوتن ‘ برکس ‘ کی کانفرنس کی میزبانی کرنے والے ہیں۔ یہ کانفرنس منگل سے شروع ہوگی۔ کانفرنس میں برکس کے اہم سربراہان حکومت کی شرکت متوقع ہے۔ چینی صدر شی اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی بھی کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے چند روز قبل کہا تھا کہ گوٹیرس نے روسی وزیر خارجہ کو بتایا تھا کہ وہ برکس کانفرنس میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
‘تاہم جب یہی سوال اقوم متحدہ کے ترجمان فرحام حق سے پیر کے روز پوچھا گیا کہ آیا گوٹیرس ‘ برکس ‘ کیلئے روس جائیں گے تو ان کا کہنا تھا ‘ ابھی ان کے سفر کے شیڈول کا اعلان ہونا باقی ہے۔