تالاب اور نہر کے احیاء تک دعوؤں پر غیر یقینی، محترمہ لبنیٰ ثروت کا اظہار عدم اطمینان
حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) بم رکن الدولہ تالاب اور نہر حسینی کے احیاء کے سلسلہ میں گذشتہ یوم کی گئی کاروائی پر محترمہ لبنیٰ ثروت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’حیدرا‘ کی جانب سے کی گئی کاروائی محض آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیونکہ تالاب اور نہر حسینی کے احیاء تک یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے ادارہ نے تالاب کے تحفظ کے اقدامات کئے ہیں۔ محترمہ لبنیٰ ثروت نے اس کاروائی پر ظاہر کردہ اپنے ردعمل میں کہا کہ جو کاروائی کی گئی ہے وہ شہریوں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے جبکہ حقیقی کاروائی ابھی باقی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ان کی جدوجہد تالاب بم رکن الدولہ اور نہر حسینی کے احیاء کی ہے اور وہ اپنی جدوجہد ’نیشنل گرین ٹریبونل ‘ میں جاری رکھیں گی۔ انہو ںنے بتایا کہ عہدیداروں نے انہیں گذشتہ یوم ہوئی کاروائی کے سلسلہ میں واقف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ 15 فیصد کاروائی کی گئی ہے جبکہ مابقی 85 فیصد کاروائی ابھی باقی ہے ۔ محترمہ لبنیٰ ثروت نے کہا کہ جب تک مابقی 85 فیصد کاروائی نہیں کی جاتی اور تالاب کے احیاء کے اقدامات نہیں کئے جاتے اس وقت تک وہ خاموش نہیں رہیں گی۔ انہو ں نے بتایا کہ تالاب کے شکم میں پائپ لائن کی تنصیب اور ڈرین لائن کے علاوہ سپٹیک ٹینک تعمیر کی گئی ہے جو کہ سرکاری محکمہ جات کی جانب سے ہوئی ہے اسے نکالنے کے علاوہ پائپ لائن کو ہٹانے کے اقدامات بھی اگر ساتھ ہی کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں تالاب کا احیاء ممکن ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ شہری تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں خدمات انجام دینے والے تنظیم SOUL کی جانب سے مسلسل اس تالاب کے علاوہ شہر کے دیگر تالابوں بالخصوص ’سرم چیروو‘ گرم چیروو‘ نلا چیروو‘ گرم چیروو اور دیگر تالابوں کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ محترمہ لبنیٰ ثروت نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے تالابوں اور سرکاری اراضیات پر کئے جانے والے قبضہ جات کی برخواستگی کے سلسلہ میں قائم کئے گئے ادارہ ’حیدرا‘ کا قیام خوش آئند ہے لیکن اس طرح کی معمولی کاروائی پر وہ اس ادارہ کے عہدیداروں کی سراہنا نہیں کریں گی بلکہ جب تک بم رکن الدولہ تالاب اور نہر حسینی کے احیاء کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہو ںنے بتایا کہ نیشنل گرین ٹریبونل میں جاری مقدمہ کے دوران وہ اپنے موقف کو پیش کرنے کے علاوہ کی گئی کاروائی کے متعلق بھی تفصیلات سے واقف کروائیں گی اور اپنے عدم اطمینان کے سلسلہ میں بھی ٹریبونل کو واقف کرواتے ہوئے وجوہات پیش کرنے کے علاوہ شواہد پیش کئے جائیں گے تاکہ ٹریبونل مزید کاروائی کے احکام جاری کرے۔3