بنگلور کے عرفان رزاق ملک کے نامور رئیل اسٹیٹ بزنس مین

   

ٹیلرنگ شاپ سے سفر کا آغاز، رئیل اسٹیٹ میں285 پراجکٹس کی تکمیل کا ریکارڈ

حیدرآباد۔/27 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) بنگلور میں ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ بزنس مین عرفان رزاق کی زندگی پر مبنی خبروں نے عوام میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔ اپنے والد کے ساتھ ایک ٹیلر شاپ میں کام کرنے والے عرفان رزاق نے اپنی محنت کے ذریعہ ایک کامیاب بزنس مین بن کر سماج کو یہ پیام دیا ہے کہ انسان کی محنت اور جستجو اسے ترقی کی منزلیں طئے کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان کا شمار ہندوستان کی دولتمند شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ عرفان رزاق پرسٹیج اسٹیٹس پراجکٹ کے صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر ہیں اور انہوں نے تجارت میں اپنے خاندان کی وراثت کو آگے بڑھایا ہے۔ عرفان رزاق کے والد رزاق ستار نے 1950 میں بنگلور میں پارچہ جات اور ٹیلرنگ شاپ قائم کی تھی۔ اس کاروبار نے عرفان رزاق کو تجارت کے میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کیا اور وہ ایک کامیاب بزنس مین بن چکے ہیں۔ رزاق کی قیادت میں پرسٹیج اسٹیٹس کے پراجکٹس کامیابی سے جاری ہیں جس میں رہائشی، کمرشیل اور دیگر پراجکٹس شامل ہیں۔ کمپنی نے 285 پراجکٹس کی کامیابی سے تکمیل کی ہے اور 54 پراجکٹس زیر تکمیل ہیں۔ حال ہی میں عرفان رزاق اور ان کے خاندان نے ایک بلین ڈالر کی دولت کو عبور کرلیا اور کمپنی کے شیئرس میں 60 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ان کی کمپنی ملک کی نامور کمپنیوں میں شامل ہے۔1990 میں بنگلور میں دوسرے رئیل اسٹیٹ پراجکٹ کی فروخت کے بعد عرفان رزاق نے کاروبار ترک کرنے کا من بنالیا تھا لیکن ان کے کامیاب پراجکٹ نے مزید پراجکٹس کے آغاز کا جذبہ فروغ دیا۔ کمپنی کی ترقی میں عرفان رزاق کی منصوبہ بندی کا اہم رول ہے۔ بنگلور کے علاوہ چینائی، کوچی، کالی کٹ، حیدرآباد اور ممبئی میں بھی کمپنی کی سرگرمیاں وسعت اختیار کرچکی ہیں۔ کمپنی متوسط طبقہ کے قابل خرید پراجکٹس کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔ عرفان رزاق کے چھوٹے بھائی رضوان اور نعمان نے فیملی بزنس کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کلاتھ مرچنٹ اور ٹیلرنگ شاپ سے عرفان رزاق 2024 میں 1.3 بلین ڈالر اثاثہ جات کے مالک بن چکے ہیں۔1