بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانا بند کیا جائے : رام جی لال

   

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کو نشانہ بنائے جانے والے فرقہ وارانہ تشدد پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تشدد کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے ۔ اس مسئلے کا واحد حل 1950 میں اس وقت کے ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے درمیان اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے کیا گیا وہ معاہدہ ہے جس میں دونوں ممالک کی حکومتوں نے اپنے اپنے ممالک کی اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔1950 میں موجودہ بنگلہ دیش پاکستان کا ایک حصہ تھا اور اسے مشرقی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا) اس معاہدے پر ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے 8 اپریل 1950 کو دستخط کیے تھے ۔ اسے لیاقت نہرو معاہدہ یا دہلی معاہدہ بھی کہا جاتا ہے ۔اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن اور باہمی ہم آہنگی کو یقینی بنانا تھا۔یہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ معاہدہ تھا۔