بنگلہ دیش میں ہندوکی آمد پر پیدا ہوئے دلچسپ سوال

,

   

نئی دہلی۔پچھلے سو سالوں میں برصغیر ہندوستان میں ہندوؤں کی آبادی میں کئی ہے۔ گرواٹ 1881میں 75.1فیصد سے 1901میں 72.9فیصد تک ہوئی‘ انگریزوں کے دور میں ایک تفریق کا ردعمل یہ شروع ہوا کہ مسلمان ہندوؤں کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ اس کے بعد ہرمردہ شماری میں اس افسانے کو دہرایا گیا۔

ہندوستان کی 1.3بلین آبادی میں مسلم محض 15فیصد ہیں۔ کیونکہ مذکور ہ تعداد میں حیرت انگیز فرق کے بعد یہ سونچنا مضحکہ خیز ہوجائے گا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے تجاوز کرجائے گی۔

تاہم یہ سچ ہے کہ ہندوستان کے 200ملین مسلمان بالخصوص اقلیتی اکثریت والے علاقوں میں بااثر رائے دہی کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس رحجان کو سابق خارجی وزیر انجہانی سشما سوراج نے بھی تسلیم کیاتھا۔

ہندوستان کی پارلیمنٹ کو انہوں نے بتایاتھا کہ ”بنگلہ دیش میں جغرافیائی تبدیلیوں کے متعلق بنگلہ دیش بیورو برائے اعداد وشمار کی پیش کردہ تعداد جس کا موزانہ2011کے جغرافیائی تفصیلات سے کیاگیاتھا 8.4فیصد ہندو ملک میں ہیں‘ جس میں 2017تک 10.7فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے“

ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ سے اٹھے سوالات

انگریزوں سے ہندوستانی کی آزادی 1947کے بعد سے اس میں کمی تھی جو بنگلہ دیس میں اچانک ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے‘بنگلہ دیش میں اس بات کا قیاس لگایاجارہا ہے

کہ موافق ہندوستان حسینہ نے بنگالی بولنے والے ہندوؤں کو ہندوستان سے درآمد کیاہے تاکہ اہم انتظامی عہدیدوں پر کیاجاسکے جس کا مقصد قوم پر مضبوط گرفت کی برقراری ہے۔

پاکستان کے دونوں سے ہندوؤں کو اعلی سرکاری عہدوں سے دور رکھنے کی تاریخ ہے کیونکہ ان پر شبہ ہے تھا کہ وہ ہندوستان کے ہمدرد ہیں۔ مگر اب وہ ہر جگہ موجود ہیں۔

وہ بڑی اسانی کے ساتھ ٹیلی ویثرن اور نیوز پیپرس میں حکومت کے ترجمانوں کے طور پر بھی پیش ہورہے ہیں۔

اس رحجان نے لوگوں کی توجہہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے ایک سٹلائیٹ ٹیلی ویثرن چیانل بنگلہ ویژن کے سینئر نیوز ایڈیٹر مسعود کمال نے استفسار کیاکہ”میرے پاس تناسب کاحساب کتاب واضح نہیں ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں ہندو آبادی نے مسلمانوں کو کس طرح پیچھے چھوڑ دیاہے؟کیاہم اس کو بات کوسمجھ سکتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہندوستان سے ایک بڑی ہندوؤں کی آبادی نے بنگلہ دیش ہجرت کی ہے؟“۔ مذکورہ سوالات زور پکڑے ہوئے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چل رہے کہ رحجان حقیقت کے بعید ہے۔ ایک مطالعہ ”بنگلہ دیش میں ہندو آبادیوں میں اضافہ۔ ایک جغرافیائی پہیلی“ سے یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ ”ہندوؤں کی شرح پیدائش کم اور شرح اموات زیادہ ہے اور اور عالمی سرحد سے مائیگریشن بھی مسلمانوں سے کم ہے“۔

آبادیاتی خصوصیات کے پیش نظر قدرتی طور پر ہندؤوں کی آبادی میں فروغ کاتناسب مسلمانوں سے میل کھاتا ہے۔اس باضابطہ گی کی وجہہ سے یہ افواہ پھیل کیوں ہندوؤں کی بنگلہ دیش میں آبادی میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے اور کس طرح ہندؤوں نے آسانی کے ساتھ کئی ملازمتیں حاصل کرلیں۔

شک کرنے والوں میں آمد کی تعداد کو مسترد کردیا اور اس پر بحث کی مذکورہ حکومت نے ہندوستان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے یہ تعداد گھڑلی ہے۔

مگر وہ اعلی عہدوں پر فائز ہندؤوں کی موجودگی کے متعلق وضاحت میں ناکام ہوگئے اور درآمد کی عمل پر اعتبار کا اظہار کیا۔سرکاری طور سے اس پر کوئی وضاحت نہیں ہے۔

یہ خاموشی کافی مہنگی ہوسکتی ہے۔دونوں فریقین کے درمیان میں موروثی اختلافات کو ہوا ملتی ہے تو حقیقی بنگلہ دیشی ہندوؤں کو مشتبہ ہجوم کے ہاتھوں نشانہ بنایاجاسکتا ہے‘ کیونکہ وہ ”درآمد کردہ ہندو“ ہوجاتے ہیں۔

کچھ ہندوؤں کا بنگلہ دیش کے تئیں عدم اطمینان تشویشناک ہے۔

بشکریہ مسلم میریر