بنگلہ دیش کی صورتحال تشویشناک، 50پولیس اہلکار ہلاک

   

عوامی لیگ کے دو ارکان پارلیمان سمیت 100 سے زائد قائدین کے گھروں پر حملے

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں پرتشدد حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک سے چلے جانے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور مظاہرین شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ چہارشنبہ کو میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں پرتشدد ہجوم نے تقریباً 400 پولیس سٹیشنوں پر حملہ کر کے کم از کم 50 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ ملک میں جاری سیاسی بحران کے درمیان بیشتر پولیس اہلکاروں نے محفوظ مقامات پر پناہ لے رکھی ہے جس کی وجہ سے ملک کے کئی تھانوں میں ایک بھی پولیس اہلکار نہیں ہے ۔دریں اثناء ضلع لال منیرہاٹ میں مظاہرین نے عوامی لیگ کے دو ارکان پارلیمنٹ اور 100 سے زائد حامیوں کے گھروں پر حملہ کیا۔ شیخ حسینہ کی برطرفی کا جشن منانے کے لیے نکالے گئے جلوس کے دوران، لال منیر ہاٹ-1 کے ایم پی اور ضلع عوامی لیگ کے صدر مطہر حسین اور لالمنیر ہاٹ-3 کے ایم پی اور ضلع عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری مطہر رحمان سمیت کئی رہنماؤں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ’ڈھاکہ ٹریبیون‘ کی رپورٹ کے مطابق پچھلی حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے زیادہ تر اعلیٰ افسران زیر زمین چلے گئے ہیں۔تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں نظر بندی سے رہائی کے ایک دن بعد، سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن خالدہ ضیاء نے چہارشنبہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے دارالحکومت کے علاقے نیا پلٹن میں پارٹی کی ایک ریلی سے خطاب کیا۔ فروری 2018 میں کرپشن کیس میں جیل جانے کے ساڑھے چھ سال بعد یہ پہلا موقع ہے جب 79 سالہ رہنما نے کسی سیاسی ریلی میں تقریر کی ہے ۔بی این پی کے جنرل سکریٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے ڈیلی سٹار کو بتایا کہ انہوں نے سب پر زور دیا کہ وہ صبر اور متحد رہیں اور اس ملک کی تعمیر نو پر توجہ دیں۔انہوں نے دارالحکومت کے ایور کیئر اسپتال میں خالدہ ضیاء سے ملاقات کی، جو وہاں زیرعلاج ہیں۔ الگامیر نے کہا کہ میں نے اسے کافی عرصے بعد دیکھا۔ہر طرف تشدد اور کشیدگی کی خبروں کے درمیان، ملک کے اٹارنی جنرل اے ایم امین الدین نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ صدر کو بھجوا دیا ہے ۔ میں نے اپنے استعفے کی وجہ ذاتی مشکلات بتائی ہے ۔ امین الدین نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ انہیں صدر نے 08 اکتوبر 2020 کو اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا۔لال منیرہاٹ فائر سروس نے بتایا کہ جوائنٹ سکریٹری ثمن خان کے گھر سے چھ جلی ہوئی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پیر کی صبح گھر کی چوتھی منزل سے نامعلوم لاشیں برآمد ہوئیں۔ ریزرویشن مخالف مظاہروں میں شامل طلباء مظاہرین کے اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاشیں ان کے بچوں کی ہوسکتی ہیں اور حکام لاشوں کی شناخت کیلئے ڈی این اے ٹسٹ کرانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔