بوریل کا بیان غیر منطقی: روسی ترجمان خارجہ

   

ماسکو : روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ تعلقات اور سلامتی پالیسی جوزف بوریل کے روس پر یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندیوں میں ترکیہ کی شرکت کے بارے میں ان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بالکل غیر منطقی سوچ ہے۔ترجمان زاہارووا نے بوریل کے “ترکیہ کے یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرح روس پر پابندیوں کا پابند ہونے ” سے متعلق بیان کا کس طرح جائزہ لیے جانے پر ایک سوال کا جواب دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بوریل کے بیانات غیر منطقی ہیں اور ترکیہ کو ماسکو انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کی بنا پر ہدف بنایا گیا ہے۔ یورپی یونین روس پر عائد کردہ پابندیوں میں داخل ہونے کے لیے ترکیہ پر دباو ڈال رہی ہے۔زاخارووا نے کہا کہ بوریل جھوٹ موٹ کے پلندوں کو پھیلانے کی کوشش میں ہیں اور ان کی یہ حرکت منطق سے عاری ہے۔ بوریل اور دیگر مغربی عہدیدار ترکیہ اور دیگر ممالک کے قومی مفادات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔صدر رجب طیب ایردوان نے ترکمانستان سے واپسی پر طیارے میں اخباری نمائندوں کے بوریل کے “ترکیہ کو یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرح روس پر پابندیوں سے ہم آہنگی قائم کرنے کے ” بیان اور یورپی یونین کے سربراہان کے درمیان روس ۔ یوکرین جنگ پالیسی کے معاملے میں ان سے قریب پالیسیوں کے حامل لیڈر موجود ہونے یا نہ ہونے پر مبنی سوالات کا جواب دیا تھا۔