40 ہزار افراد ڈرگس کی لعنت میں مبتلا TGNAB کی نشاندہی
متاثرین میں طلبہ و ملازمین میں شامل 7 ماہ میں 6 ہزار افراد کو دی گئی کونسلنگ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے والے والدین کو یہ جان کر حیرت ہوگئی ہے کہ ان کے بچے منشیات کے غلام بن گئے ہیں ۔ بچوں کو اچھی ملازمتوں پر فائز ہونے کا خواب دیکھنے والدین بچوں کی حالت کو دیکھ کر آنسو بہا رہے ہیں ۔ ٹی جی نیاب کی تحقیقات میں ایسے واقعات منظر عام پر آئے ہیں ۔ عہدیداروں نے تاحال نشاندہی کی ہے کہ ریاست میں 40 ہزار سے زیادہ افراد منشیات کا استعمال کررہے ہیں ۔ گذشتہ 7 ماہ کے دوران تقریبا 6 ہزار افراد کو کونسلنگ دی گئی ہے ۔ تلنگانہ اینٹی نارکوٹکس بیورو ( ٹی جی نیاب ) نے منشیات سربراہ کرنے والوں اور استعمال کرنے والوں کے علاوہ اس کے عادی ہو کر زندگیاں تباہ کرنے والے طلبہ اور ملازمین کی نشاندہی کرنے کا آغاز کیا ہے ۔ پیڈلرز سے جمع کی گئی معلومات کے ساتھ رینڈم ٹسٹ کا انعقاد کرتے ہوئے ریاست بھر میں 40 ہزار افراد کی نشاندہی کی ہے ۔ انہیں کونسلنگ فراہم کرتے ہوئے منشیات سے چھٹکارا دلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکام نے بتایا کہ ہر 100 افراد میں 90 افراد پہلی مرتبہ دوستوں کے اکسانے پر گانجہ کا استعمال کیا اور پھر آہستہ آہستہ یہ ان کی عادت بن گئی ۔ حکام نے بتایا کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں ایسے افراد کی نشاندہی کرنے کے بعد انہیں کونسلنگ سنٹرس سے رجوع کیا جارہا ہے ۔ عام طور پر نشہ آور اشیاء کا پتہ لگانے کے لیے برتھ انلائزر دستیاب ہیں ۔ جس کا استعمال کرنے پر نتائج فوری برآمد ہوں گے ۔ تاہم گانجہ اور منشیات کا استعمال کرنے والوں کی نشاندہی دستیاب ، خون اور تھوک کے نمونوں کی جانچ کرتے ہوئے سائیکو ایکٹیو مرکبات کا پتہ لگایا جاتا ہے ۔ یہ نمونے حاصل کرتے ہوئے لیبارٹریوں میں جانچ کے لیے روانہ کیے جاتے ہیں ۔ چند دنوں میں ان کے نتائج دستیاب ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ TGNAB نے جدید ادویات کی جانچ کرنے والی کٹس کا استعمال شروع کردیا ہے ۔ جس سے مختلف اقسام کے منشیات کرنے کا پتہ چل رہا ہے ۔ یونیورسٹیز ، میڈیکل و انجینئرنگ کالجس ، پبس میں رینڈم ٹسٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ منشیات لینے کی تصدیق ہونے پر ان کے ارکان خاندان کو اس کی اطلاع دی جارہی ہے ۔ جن کی حالت سنگین ہے ۔ انہیں ڈی ریڈکشن سنٹرس روانہ کیا جارہا ہے ۔ مزید چند لوگوں کو کونسلنگ دے کر انہیں والدین کے ساتھ گھر بھیج دیا جارہا ہے ۔ عہدیدار منشیات کے متاثرین کی شناخت کرتے ہوئے انہیں ڈی ایڈکشن سنٹرس کو منتقل کررہے ہیں ۔ جہاں انہیں مناسب خدمات دستیاب نہیں ہے ۔ حال ہی میں ٹی جی نیاب نے ریاست بھر میں سرکاری اور رضاکارانہ تنظیموں کی سرپرستی میں خدمات انجام دینے والے ڈی ایڈکشن سنٹرس کی جانچ کی ہے ۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ چند سنٹرس میں منشیات کی جانچ کرنے کے لیے کٹس نہیں ہے اور جن مراکز میں 10 متاثرین کو رکھنا ہے وہاں 60 متاثرین کو رکھا جارہا ہے ۔ کئی مراکز میں ڈاکٹرس اور ماہرین نفسیات کی خدمات بھی دستیاب نہیں ہے ۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے ایسے افراد کو نشہ کی عادات چھڑانے کے لیے ہر متاثر پر ماہانہ 15 ہزار روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ کئی سنٹرس سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔ جس کی رپورٹ حکومت کو دینے پر تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔۔ 2