حیدر آباد: مجلس کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بہار کے کئی علاقوں میں رام نومی کے موقع پر تشدد پر ایک بار پھر چیف منسٹر نتیش کمار کو نشانہ بنایا ہے۔ حیدرآباد میں جمعہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ نتیش کمار خود افطار پارٹی میں مصروف ہیں لیکن ان کے پاس بہار شریف جانے کا وقت نہیں ہے۔ اویسی نے بہار شریف اور ساسارام میں رام نومی کے موقع پر پیش آئے تشدد سے پیدا ہونے والی صورتحال کیلئے سی ایم نتیش پر حملہ کیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ انہیں نالندہ کو جانے کی اجازت پہلے دی گئی تھی لیکن بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ بہار میں تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اویسی نے الزام لگایا کہ بہار حکومت اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سے روکنے پر اویسی نے کہا کہ جب میں نے ان سے پوچھا کہ اگر بی جے پی، کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے لیڈر آ رہے ہیں تو مجھے اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے؟ جن کے گھر جل گئے، ان کیلئے کیا معاوضہ مقرر کیا گیا ہے؟ اس سے پہلے بھی اویسی نے تشدد کے معاملے پر بہار حکومت کو نشانہ بنایا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے سی ایم نتیش کمار نے اویسی کو بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ نتیش کمار نے کہا تھا کہ 2017 میں جب انہوں نے این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کی تو اویسی نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ سی ایم نتیش نے کہا کہ انہوں نے اویسی سے ملنے سے انکار کر دیا، تب سے حیدرآباد کے ایم پی بی جے پی کے مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔