بہار کے ضلع بگہا میں فرقہ وارانہ تشدد ،61 گرفتار

   

پٹنہ: بہار کے بگاہا ضلع میں فرقہ وارانہ تشدد کے ایک دن بعد مقامی پولیس نے جمعرات کو دونوں برادریوں کے 61 افراد کو گرفتار کیا۔ میڈیا کو تفصیلات بتا تے ہوئے، ایس ڈی پی او کیلاش پرساد نے دعویٰ کیا کہ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں 472 معلوم اور1600 نامعلوم افراد کے خلاف سات ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ہم نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں کی بنیاد پر اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ محکمہ پولیس نے دونوں برادریوں کے ملزمین کے خلاف تیزی سے کارروائی کی ہے۔ ہم مزید ملزمان کی نشاندہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو 21 اگست کو مہاویری اکھاڑا مارچ کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تھے۔ پرساد نے کہا ملزمین مہاویری مارچ کے دوران حملہ میں ملوث تھے۔ ان میں سے کچھ پر لوگوں کو ایک مخصوص کمیونٹی پر حملہ کرنے کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ دونوں اضلاع میں حالات اس وقت معمول پر ہیں۔ تشدد کے پیش نظر ریاستی وزارت داخلہ نے پہلے ہی دو دن کے لیے انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا ہے۔محکمہ داخلہ نے یہ فیصلہ بگہا اور موتیہاری کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی کی رپورٹ پر لیا ہے۔پیرکو ناگ پنچمی کے دوران دو برادریوں کے درمیان پرتشدد تصادم میں 12 سے زیادہ افراد زخمی ہو ئے۔ٹاؤن پولیس اسٹیشن بگہا کے تحت رتن مالا مسجد میں مہاویری مارچ کے دوران بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی۔ مارچ کے دوران کچھ لوگوں نے مہاویری اکھاڑہ کے خلاف احتجاج کیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔اسی طرح کے واقعات مشرقی چمپارن ضلع سے بھی رپورٹ ہوئے، جب مہسی اور کلیان پورگاؤں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔