خاتون کی موت پر تدفین و آخری رسومات کے لیے بیٹوں میں جھگڑا ، علماء کے لیے لمحہ فکر
حیدرآباد۔8 ۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے کئی سرکردہ علماء و اکابرین ملک بھر کی مختلف ریاستوں اور شہر حیدرآباد میں دعوت دین و اشاعت دین کے علاوہ ذکر و سلوک کی محفلوں کا انعقاد کرتے ہوئے معاشرہ سے برائیوں کے خاتمہ کی تحریک چلا رہے ہیں لیکن ریاست بہار میں جو صورتحال پیدا ہوچکی ہے اس کا اندازہ لگانا اب دشوار نہیں رہا ۔ گذشتہ دنوں ریاست بہار میں ایک خاتون کی موت اور اس کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے بیٹوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد جو انکشافات ہوئے ہیں وہ انتہائی حیرت ناک ہیں ۔ رقیہ خاتون نامی خاتون کی موت پر اس کے فرزند نے مسلم طریقہ سے اس کی تجہیز و تکفین کے لئے پہنچا لیکن خاتون کے دوسرے فرزند نے اپنی ماںکی ہندو رسم و رواج کے مطابق آخری رسومات ادا کرنے پر بضد تھا۔ تفصیلات کے مطابق لکھی سرائے ضلع سے تعلق رکھنے والی خاتون جو کہ مسلم تھی اور اس کے مسلم شوہر سے اسے ایک فرزند تھا لیکن اس نے بعد میں جو شادی کی وہ ہندو شخص سے کی تھی اور اس شخص سے بھی رقیہ خاتون کو فرزند تولد ہوا ۔اس خاتون کی موت کے بعد مختلف شوہروں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے فرزندوں نے اپنے اپنے طریقہ سے اپنی ماں کی آخری رسومات انجام دینے پر ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور اس دوران پولیس کو معاملہ میں مداخلت کرنی پڑی۔ متوفی خاتون کے دوسرے فرزند ببلو جھا کے مطابق اس کی ماں نے اس کے والد سے شادی کے بعد اپنا مذہب اور نام دونوں ہی تبدیل کرلیا تھا اور ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد اس کا نام ریکھا دیوی رکھا گیا تھا ۔ببلو جھا نے اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے بطور ثبوت ووٹر شناختی کارڈ ‘ آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات پیش کئے جبکہ مسلم فرزند نے بھی اپنے پاس موجود دستاویزات پیش کئے ۔مسلم فرزند کے مطابق 10 سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا جب سے اس کی ماں غیر مسلم شخص کے ساتھ زندگی گذار رہی تھی لیکن اب وہ فوت ہوچکی ہے تو اسے اس بات کا اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ وہ اپنی ماں کی اپنے مذہب کے مطابق تجہیز و تکفین کا عمل انجام دے سکے ۔ محمد محفل متوفی کے بڑے لڑکے نے بتایا کہ اس کی ماں نے 45 سال قبل راجندر جھا سے شادی کی اور وہ کچھ مدت پعد اس کے ساتھ رہنے لگا تھا اور اپنے مذہب پر قائم ہے لیکن اب جب اس کی ماں فوت ہوئی ہے تو اس کی ماں کے ہندو شوہر سے تولد ہونے والے ببلو جھا نے ہندو رسومات کے مطابق آخری رسومات ادا کرنے کے لئے جھگڑا شروع کیا ہے۔م