بہت آسان ہے کمرے میں وندے ماترم کہنا

   

وندے ماترم پر سیاست … حب الوطنی پر سوال
Gen-Z کو مودی حکومت نے دھوکہ دیا

رشیدالدین
وندے ماترم اور حب الوطنی۔ کسی بھی ملک میں حب الوطنی کا معیار محض زبانی دعویٰ یا نعرہ نہیں ہوتا بلکہ حب الوطنی کا عملی ثبوت دیکھا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں نریندر مودی حکومت نے حب الوطنی کو صرف جملہ بازی تک محدود کردیا ہے ۔ بھلے ہی کوئی ملک کو لوٹتا رہے ، دستور اور قانون کی خلاف ورزی کرے ، حتیٰ کہ ملک کے دفاعی راز دشمن ممالک کو حوالے کرے لیکن وہ دیش دروہی نہیں کہا جائے گا۔ ہاں اگر کوئی وندے ماترم گیت مکمل نہ پڑھے تو مودی حکومت کی نظر میں وہ نہ صرف ملک دشمن ہے بلکہ اسے سزا بھی دی جائے گی۔ اصل دیش دروہی تو وہ ہے جو دستور اور جمہوریت کو پامال کرے۔ دستور اور قانون کی دھجیاں اڑانے والے تو ملک کے وفادار لیکن ایک مخصوص گیت گانے سے انکار پر ملک کا غدار۔ واہ رے دیش بھکتی۔ ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ دیش بھکتی کا ثبوت وہ مانگ رہے ہیں جن کا جدوجہد آزادی سے دور دور کا تعلق نہیں اور ان کی دیش بھکتی پر سوال کیا جارہا ہے جنہوں نے جدوجہد آزادی کی نہ صرف قیادت کی بلکہ اپنی جانوں کو ملک پر نچھاور کیا۔ جن کے آباء و اجداد انگریزوں کی غلامی کر رہے تھے اور مجاہدین آزادی کی جاسوسی کرتے رہے اور انگریزوں کو معافی نامہ لکھا ، آج ان کے وارثین دیش بھکتی کا سرٹیفکٹ تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک مجرم نے پولیس کو ایمانداری کا سرٹیفکٹ جاری کیا۔ حب الوطنی کا سرٹیفکٹ تقسیم کرنے والے پہلے ملک کی جدوجہد آزادی کا مطالعہ کریں اور پھر تعین کریں کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ انگریزوں سے معافی مانگنے والے ساورکر اور مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو قومی ہیرو تسلیم کرنے والے آج کانگریس پارٹی اور مسلمانوں پر انگلی اٹھارہے ہیں۔ جس وقت ان کا وجود تک نہیں تھا ، اس وقت کانگریس کی قیادت میں مجاہدین آزادی قربانیاں پیش کر رہے تھے۔ جس وقت انقلاب زندہ باد اور وندے ماترم کے نعروں سے انگریزی سامراج پر خوف طاری ہورہا تھا ، اس وقت آج کے خود ساختہ دیش بھکتوں کے اجداد انگریزوں کی غلامی کر رہے تھے۔ نریندر مودی حکومت نے محض ایک گیت کو حب الوطنی سے جوڑدیا ہے اور یہ دراصل ملک کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے اور Gen-Z تحریک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ ملک کے عوام باشعور ہیں اور بی جے پی اور سنگھ پریوار کے بہکاوے میں آنے والے نہیں۔ آر ایس ایس جس کے ہیڈکوارٹر پر آزادی کے بعد 50 برسوں تک قومی پرچم نہیں لہرایا گیا ، وہ تنظیم ان سے سوال کر رہی ہے جن کے اسلاف کی قربانیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ وندے ماترم کو 24 جنوری 1950 کو دستوری اسمبلی نے قومی گیت کا درجہ دیا، جس کے تحت اس گیت کے ابتدائی دو حصوں کو پڑھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بنکم چندر چٹرجی نے 1875 میں یہ گیت لکھا جو سنسکرت اور بنگالی میں ہے۔ گیت کے ابتدائی دو حصوں میں مادر وطن کے احترام کا تذکرہ ہے جبکہ باقی حصے میں وطن کی عبادت اور پرستش کی گئی ہے۔ گیت کے آخری حصے پر جب تنازعہ پیدا ہوا تو مہاتما گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور نے 1937 میں صرف ابتدائی دو حصوں کو پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ 1937 کی منظورہ قرارداد کے مطابق ملک میں گزشتہ 79 برسوں تک وندے ماترم کے ابتدائی دو حصوں کو پڑھنے کا رواج تھا۔ فرقہ وارانہ اور ہندوتوا ایجنڈہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے والی بی جے پی نے مکمل گیت کو لازمی قراردیا اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کی گئی جس کے تحت گیت کا احترام نہ کرنے پر سزا کی گنجائش رکھی گئی۔ دستور ہند نے ہر شہری کو مذہبی آزادی کے تحت جو حقوق فراہم کئے ہیں، ان میں کسی کو مذہبی عقائد کے خلاف کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری تقاریب کے آغاز پر وندے ماترم پڑھنے کو لازمی کردیا گیا جو مذہبی منافرت کی سیاست کی ایک نئی چال ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں نے مکمل گیت کے لزوم کی مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسلمان اپنے عقیدے کے خلاف نہیں جاسکتے اور وطن کی عبادت اور پرستش کے الفاظ نہیں پڑھ سکتے۔ کانگریس پارٹی نے بھی 1937 میں ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ پر عمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مودی حکومت کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ یوم آزادی تقریب میں سونیا گاندھی پر وندے ماترم کی توہین کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی عوام کو کانگریس کے خلاف سڑکوں پر آنے کے لئے اکسا رہی ہے۔ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں بھی وندے ماترم کے ابتدائی دو حصوں کو پڑھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کانگریس نے دراصل سیکولرازم کے تحفظ کیلئے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے اور ملک میں فرقہ پرستوں اور سیکولر طاقتوں میں آر پار کی لڑائی کا وقت قریب دکھائی دے رہا ہے۔ آزادی کے بعد ملک میں ایسے حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے جب وزیراعظم اور وزیر داخلہ بے بس دکھائی دیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ بھی عوامی عدالت کے کٹہرے میں ہے۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے قانون کو ماننے سے انکار کردیا ہے ۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ جو بھی وندے ماترم کے 6 پیراگراف نہیں پڑھے گا ، وہ دیش دروہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر بی جے پی کو چاہئے کہ پہلے اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی کو دیش دروہی قرار دے، جن کے دور حکومت میں وندے ماترم کے صرف دو حصے پڑھے جاتے رہے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کیا اٹل بہاری واجپائی اور اڈوانی سے زیادہ دیش بھکت ہیں؟ امیت شاہ جو خود کو موجودہ وقت کا سردار پٹیل کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، وہ وندے ماترم کے معاملہ میں مہاتما گاندھی ، پنڈت نہرو ، سردار پٹیل ، سبھاش چندر بوس ، مولانا آزاد اور رابندر ناتھ ٹیگور کی دیش بھکتی پر سوال کر رہے ہیں۔ 1942 میں جب ہندوستان چھوڑو تحریک عروج پر تھی، ہندوتوا کے نظریہ ساز شیاما پرساد مکرجی نے محمد علی جناح مسلم لیگ کے ساتھ تین ریاستوں میں حکومت قائم کی۔ سندھ، بنگال اور نارتھ فرنٹیئر پراوینس میں مسلم لیگ کے ساتھ اقتدار میں شراکت رہی۔ اب عوام خود طئے کریں گے کہ ملک کا حقیقی وفادار کون ہے۔
Gen-Z کو چھیڑ کر مودی حکومت نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے وقت کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ مرکزی حکومت نے دو وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ذریعہ معاہدہ کیا تھا جس میں احتجاجیوں کے خلاف درج تمام مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا تھا۔ نہ صرف دہلی بلکہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں احتجاجیوں کے خلاف درج FIR ختم کرنے کا تیقن دیا گیا لیکن مودی حکومت نے اس معاملہ میں یو ٹرن لے لیا اور مقدمات کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بارہا مرکز سے ایف آئی آر کی تفصیلات طلب کی لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ 2873 ایف آئی آر ایسے احتجاجیوں کے خلاف درج ہیں جن کا کریمنل ریکارڈ ہے۔ باقی ایف آئی آر کی تفصیلات پیش کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ نریندر مودی حکومت کا وعدہ سے انحراف مہنگا پڑے گا کیونکہ کاکروچ حکومت کے رویہ سے ناراض ہیں اور وہ دوبارہ کسی بھی وقت سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ مودی حکومت نے 2014 سے آج تک جس طرح عوام کو جملے بازی سے دھوکہ دیا ہے ، وہ Gen-Z کو بھی اسی طرح نمٹنا چاہتی ہے ۔ حکومت کو جان لے نا چاہئے کہ نہ صرف Gen-Z بلکہ Gen-Alpha بھی میدان میں آچکے ہیں۔ دوسری طرف پی ایم کیرس فنڈ کے 8452 کروڑ ملک میں بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ ہنگامی صورتحال اور آفات سماوی کی صورت میں پی ایم کیرس فنڈ کے ذریعہ امداد کا فیصلہ کیا گیا لیکن یہ وزیراعظم نریندر مودی کے پرسنل فنڈ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ ایسا فنڈ ہے جس کے بارے میں جاننے کا عوام تو کیا ارکان پارلیمنٹ کو اختیار نہیں ہے۔ کہاں سے رقم آرہی ہے اور کہاں خرچ کی گئی ، اس کا حساب کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے پی ایم کیرس فنڈ کا آڈٹ بھی نہیں کیا گیا۔ جب خرچ کرناہی نہیں ہے تو پھر بیرونی فنڈس حاصل کیوں کئے گئے۔ اس بارے میں گودی میڈیا سوال کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ فنڈ کے صدرنشین وزیراعظم ہیں جبکہ ارکان کے طور پر امیت شاہ ، راجناتھ سنگھ اور نرملا سیتارامن کو رکھا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے پی ایم کیرس فنڈ کو ملک کے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے پر خرچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن وزیراعظم کا دفتر اس پراسرار فنڈ کی تفصیلات کے بارے میں خاموش ہے۔ منور رانا نے خود ساختہ دیش بھکتوں کو کچھ یوں مشورہ دیا ہے ؎
چلو چلتے ہیں مل جل کر وطن پر جان دیتے ہیں
بہت آسان ہے کمرے میں وندے ماترم کہنا