بیرون ملک اثاثہ جات اور کالے دھن کا پتہ چلانے انٹروپول کو زائد اختیارات

   

سلور نوٹس سسٹم متعارف ، 52 ممالک کے درمیان تفصیلات کے تبادلے کا امکان
حیدرآباد ۔13۔جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے بیرون ملک کالے دھن کا پتہ چلانے کیلئے انٹر پول کے اختیارات میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ انٹر پول کے تحت ’’سلور نوٹس‘‘ کے نام سے زائد اختیارات فراہم کئے جائیں گے جس کے تحت بیرون ملک اثاثہ جات کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی۔ سی بی آئی کے ڈائرکٹر پراوین سود کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے یہ تجویز پیش کی تھی جسے عملی جامہ پہناتے ہوئے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سی بی آئی ڈائرکٹر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2015 میں تجویز پیش کی تھی کہ انٹرپول کے تحت ایسا نظام ہونا چاہئے جس کے تحت بیرون ملک منی لانڈرنگ کا پتہ چلایا جاسکے۔ ہندوستانیوں کی جانب سے ملک کے باہر رقومات کی منتقلی کے رجحان میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے انٹر پول کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ بیرونی ممالک میں منی لانڈرنگ سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ انٹرپول کو سلور نوٹس کی شکل میں اضافی اختیارات حاصل ہوجائیں گے ۔ انٹرپول کی جانب سے غیر قانونی اثاثہ جات اور رقومات کی منتقلی کا پتہ چلانے کے لئے 8 مختلف طرح کی نوٹسیں جاری کی جاتی ہیں۔ مذکورہ نوٹسوں کے تحت دیگر ممالک انٹرپول کی درخواست پر ہندوستانیوں کی جانب سے رقومات کی منتقلی اور اثاثہ جات کی تفصیلات حوالے کرتے ہیں۔ عام حالات میں بیرونی ممالک میں اثاثہ جات اور رقومات کا پتہ چلانے کیلئے باہمی قانونی امداد معاہدہ نافذ تھا۔ جن ممالک سے یہ معاہدہ کیا جاتا ہے، وہاں سے تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ہندوستان کو بیرون ملک اثاثہ جات کا پتہ چلانے کیلئے مذکورہ ملک سے باہمی معاہدہ ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سلور نوٹس کے تحت معاہدہ کے بغیر بھی انٹرپول تفصیلات حاصل کرسکتا ہے ۔ باہمی معاہدہ کی صورت میں ایک ایجنسی سے دوسری ایجنسی کو اور ایک بینک سے دوسرے کو تفصیلات کی فراہمی میں دشواریوں کا سامنا تھا۔ ہندوستان نے 45 ممالک سے باہمی معاہدہ کیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں انٹرپول کی مدد سے بیرونی ممالک میں رقومات کی منتقلی کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 2015 میں اثاثہ جات کی ریکوری سے متعلق کانفرنس سے خطاب کیا جس کا اہتمام سی بی آئی اور انٹرپول نے کیا تھا۔ وزیراعظم نے جرائم سے بہتر طور پر نمٹنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون میں اضافہ کی تجویز پیش کی تھی تاکہ دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے رقومات کی منتقلی پر نظر رکھی جاسکے۔ 2022 میں انٹرپول جنرل اسمبلی کا ہندوستان میں اجلاس ہوا جس میں قرارداد منظور کرتے ہوئے اختیارات میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا۔ مختلف ممالک سے باہمی مشاورت کے بعد 2023 میں ویانا میں منعقدہ انٹرپول کی 91 ویں جنرل اسمبلی میں سلور نوٹس کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ سلور نوٹس کے تحت 52 ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعہ تفصیلات کا تبادلہ عمل میں آئے گا۔1