ہندوستانی شہریوں کا دیگر ممالک میں جائیداد خریدی کے ذریعہ منافع حاصل کرنے میں دلچسپی
حیدرآباد۔30۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ہندستانی شہری ملک میں سرمایہ کاری سے زیادہ بیرون ملک سرمایہ کاری کو محفوظ تصور کرنے کے علاوہ اسے سود مند تصور کر نے لگے ہیں۔ ہندستانیوںکو دنیا کے مختلف ممالک میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے فوائد کو دیکھتے ہوئے چھوٹے سرمایہ کار بالخصوص جائیدادوں کی خریدی میں دلچسپی رکھنے والوں کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک میں جائیدادوں کی خریداری کے علاوہ دیگر فوائد جیسے شہریت کے حصول اور تجارتی و زرعی سرگرمیوں کی اجازت کے حصول پر توجہ دی جا رہی ہے۔گذشتہ 3برسوں کے دوران بیرون ملک سرمایہ کاری کے سلسلہ میں مشاورت کرنے والوں کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ ہندستان سے سالانہ 2.5لاکھ ڈالر کی رقم فی کس بیرون ملک روانہ کرنے کی اجازت کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ متوسط طبقہ کے لوگ جو ایک یا دیڑھ کروڑ روپئے جائیدادکی خریدی بغرض سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہندستان کے بجائے بیرون ملک سرمایہ کاری سے زبردست فائدہ حاصل ہونے لگا ہے۔ 2.5لاکھ ڈالر سالانہ کی جو حد مقرر کی گئی ہے اگر کا حساب 82روپئے فی ڈالر کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے تو سالانہ بیرون ملک 2کروڑ 5لاکھ سے زائد کی سرمایہ کاری کی گنجائش پیدا ہوچکی ہے۔ہندستان میں جائیداد کی خریدی اور کروڑوں روپئے کی سرمایہ کاری کے بعد سرمایہ کار کو3تا5 فیصد فائدہ کرایہ یا آمدنی کی شکل میں حاصل ہورہا ہے جبکہ بیرون ملک کی جانے والی سرمایہ کاری سے 8تا10 فیصد فائدہ حاصل کیا جانے لگا ہے علاوہ ازیں انہیں شہریت کے فوائد کے علاوہ دیگر فائدے حاصل ہونے لگے ہیں اور اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب جو لوگ 1یا 2کروڑ جائیداد کی خریدی کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ہندستان کے کسی بھی شہر میں جائیداد کی خریدی سے زیادہ بیرون ملک جائیدادوں میں سرمایہ کاری پر توجہ دینے لگے ہیں۔حکومت ہند کی جانب سے بیرون ملک سرمایہ کاری میں فراہم کی جانے والی رعایت اور عالمی کرنسی ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے سبب ہندستانی سرمایہ کاروںکو فی الحال مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ 2016کے بعد سے شروع ہوئے اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہاہے اور دبئی ‘ امریکہ ‘ برطانیہ کے علاوہ ترکی ‘ کینیڈا ‘ آسٹریلیاء اور دیگر ممالک میں بھی ہندستانی شہریوں نے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنی شروع کردی ہے۔2014 تک ہندستانیوں کو سالانہ صرف 1لاکھ 25ہزار ڈالر روانہ کرنے یا سرمایہ کاری کرنے کی اجازت حاصل تھی اور سال 2013میں یہ حد 75ہزار ڈالر سالانہ تک محدود ہوا کرتی تھی اور 2016 میں مرکزی حکومت کے فیصلہ کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا نے اس حد میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.5لاکھ ڈالر فی کس سالانہ کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کی ہیں جس کا ہندستانی شہری فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک میں رئیل اسٹیٹ کے علاوہ دیگر منظورہ شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنا رہے ہیں۔