بینک فنڈ غبن معاملہ: سینئر آئی اے ایس افسر پنکج اگروال گرفتار

   

نئی دہلی، 23 جون (یو این آئی) مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے سینئر آئی اے ایس افسر پنکج اگروال کو آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چنڈی گڑھ برانچ میں ہریانہ اسکول ایجوکیشن پروجیکٹ کونسل (ایچ ایس ایس پی پی) اور اسٹیٹ ایگریکلچرل مارکیٹنگ بورڈ (ایچ ایس اے ایم بی) کے کھاتوں سے سرکاری فنڈز میں ہیرا پھیری کے معاملے میں گرفتار کیا ہے ۔ وہ اسکولی تعلیم کے محکمے اور محکمہ زراعت میں پرنسپل سکریٹری کے عہدے پر فائز تھے ۔ انہیں منگل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ہریانہ حکومت سے ملے اشاروں کے بعد سی بی آئی نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ جانچ میں پتہ چلا کہ ان محکموں کے کھاتے ہریانہ کے محکمہ خزانہ کے موجودہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھولے گئے تھے اور بعد میں ان میں مقررہ حد سے زیادہ رقم منتقل کی گئی تھی۔سی بی آئی نے کہا کہ یہ کھاتے اس وقت کے پرنسپل سکریٹری پنکج اگروال کے دورِ ملازمت کے دوران کھولے گئے تھے ۔ جانچ میں پتہ چلا کہ ان محکموں کے کھاتوں میں دھوکہ دہی پر مبنی لین دین کے ذریعے رقم کا غبن کیا گیا، جس سے حکومت کو 60.54 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا۔ واضح رہے کہ ہریانہ حکومت کی درخواست پر سی بی آئی نے یہ جانچ ریاستی ویجیلنس اور اینٹی کرپشن بیورو سے اپنے ہاتھ میں لی تھی۔ ان دونوں محکموں سے جڑے مبینہ گھپلے کی رقم تقریباً 60.54 کروڑ روپے تھی۔ یہ معاملہ سیکٹر۔32 میں واقع آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک برانچ میں سامنے آئے ایک بڑے گھپلے کا حصہ ہے ، جس میں ہریانہ حکومت کے آٹھ محکموں کے تقریباً 504 کروڑ روپے مبینہ طور پر فرضی (شیل) کمپنیوں کے ذریعہ نکال کر غبن کرلیے گئے تھے ۔ سی بی آئی نے اب تک ہریانہ معاملے میں 17 ملزمان کے خلاف فردِ جرم داخل کی ہے۔
، جن میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک کے چھ افسران، ہریانہ حکومت کے تین افسران، دو کمپنیاں اور چھ نجی لوگ شامل ہیں۔ سینئر آئی اے ایس افسر آر کے سنگھ، جنہیں پنچکولہ میونسپل کارپوریشن سے وابستہ فنڈز کی ہیرا پھیری کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کا پولیس ریمانڈ ختم ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے ۔