بی سی کے ایک نہیں تین بل اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 13 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس پارٹی کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کانگریس کو دھوکہ باز پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وعدے کرنا اور اس سے منحرف ہوجانا کانگریس پارٹی کی فطرت میں شامل ہے۔ انہوں نے بی آر ایس پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام چیزوں کو ’’پنک بُک‘‘ میں تحریر کیا جارہا ہے اور بی آر ایس کی حکومت بننے کے بعد سود سمیت وصول کیا جائے گا۔ ضلع جنگاؤں کا دورہ کرتے ہوئے کویتا نے بی سی بل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کویتا نے کہا کہ بی سی بل کے معاملے میں کانگریس حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے کانگریس ، مرکزی حکومت کو روانہ کرتے ہوئے مگرمچھ کے آنسو بہانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی آر ایس ایم ایل سی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی میں ایک نہیں بلکہ تین بی سی بل پیش کرے۔ تعلیم میں 46% ریزرویشن، ملازمتوں میں 46% ریزرویشن کا بل، کانگریس پارٹی نے مقامی اداروں میں بی سی طبقات کو 42% ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا، اس کا بھی اسمبلی میں پیش کرے اور ساتھ ہی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کا آغاز کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منظم سازش کے تحت تاخیر کرتے ہوئے اس کے خلاف دوسروں کو عدالت سے رجوع ہونے کا موقع دے رہی ہے۔ کویتا نے ذات پات کا سروے دوبارہ شروع کرنے حکومت کے اعلان کو بی آر ایس کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ 15 دن کے بجائے ایک ماہ تک سروے کیا جائے۔ انہوں نے حیدرآباد میں 60% مکانات کا سروے نہ ہونے کا الزام عائد کیا۔ ریاست میں بی آر ایس پارٹی قائدین اور کارکنوں کے خلاف پولیس کی جانب سے جھوٹے مقدمات درج کرنے، انہیں گرفتار کرتے ہوئے جیل بھیجنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ اس طرح کی حرکتوں سے بی آر ایس خوف زدہ نہیں ہوگی بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے جانبدارانہ کارروائی کرنے والے پولیس ملازمین کے نام پنک ڈائری تحریر کئے جارہے ہیں۔ بی آر ایس کی حکومت بننے کے بعد سود سمیت وصول کرنے کا انتباہ دیا۔کانگریس حکومت نے سماج کے تمام طبقات یہاں تک کہ طلبہ کو بھی دھوکہ دیا ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ جاری نہیں کئے گئے۔ بی آر ایس کو سپریم کورٹ پر مکمل بھروسہ ہے ۔ پارٹی سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف فیصلہ آئے گا اور 10 اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات منعقد ہوں گے اور اس میں بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ 2