بی آر ایس منحرف ارکان کو نااہل قراردینے پر فیصلہ محفوظ

   

تلنگانہ ہائیکورٹ میں فریقین کے مباحث کی تکمیل، اسپیکر کی جانب سے فیصلہ میں تاخیر کی شکایت

حیدرآباد۔/7 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ میں بی آر ایس کے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت آج مکمل ہوگئی۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے فریقین کی سماعت کی تکمیل کے بعد فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی قائدین کی جانب سے تین منحرف ارکان ڈی ناگیندر، کے سری ہری اور وینکٹ راؤ کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کیلئے درخواست دائر کی گئی۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے متواتر سماعت کے ذریعہ فریقین کے دلائل کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اس بات پر توجہ دی گئی کہ آیا ہائی کورٹ کی جانب سے اسپیکر اسمبلی کو ہدایت دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ درخواست گذاروں کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اسپیکر کو مقررہ مدت کے دوران درخواستوں کی یکسوئی کی ہدایت دی جاسکتی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق اسپیکر کو فیصلہ کا اختیار حاصل ہے اور ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں دی جاسکتی۔ بی آر ایس کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ جی موہن راؤ نے کہا کہ اسپیکر نے منحرف ارکان کے خلاف دی گئی شکایتوں پر طویل عرصہ سے کارروائی نہیں کی ہے۔ چونکہ اسپیکر کا عہدہ دستور کی دفعہ 10 کے تحت آتا ہے لہذا ہائی کورٹ کو اسپیکر کے اقدامات کا جائزہ لینے کا اختیار ہے۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا گیا۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر وکلاء سے سوال کیا کہ آیا ہائی کورٹ کو اسپیکر کو ہدایت دینے کا اختیار حاصل ہے؟ ۔ سپریم کورٹ نے اندرون تین ماہ اسپیکر کو فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اس فیصلہ کے بارے میں وکلاء میں اختلاف رائے دیکھا گیا۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے اسپیکر کے فیصلہ میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اسپیکر شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بی آر ایس کے ارکان کے پی ویویکانند، پی کوشک ریڈی اور بی جے پی کے مہیشور ریڈی نے ارکان اسمبلی ڈی ناگیندر، کے سری ہری اور وینکٹ راؤ کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کی درخواست کی ہے۔1