اسمبلی انتخابات میں شکست فاش کے بعد پارٹی پر نام تبدیلی کا دباؤ
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس قیادت کی جانب سے پارٹی کا نام تبدیل کرنے کے لیے ماہرین قانون سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے ۔ بہت جلد الیکشن کمیشن سے رجوع ہونے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد بی آر ایس قیادت پر پارٹی کا نام تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ ٹی آر ایس رکھنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ پارٹی قیادت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے قواعد اور قانونی پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل کے سی آر نے قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کے لیے علاقائی جماعت ٹی آر ایس کو قومی جماعت بی آر ایس میں تبدیل کیا گیا ۔ تاہم اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی شکست کے بعد سے پارٹی قائدین اور کارکنوں کا پارٹی قیادت پر دباؤ بڑھ گیا کہ پارٹی کا نام دوبارہ ٹی آر ایس سے موسوم کیا جائے ۔ پارٹی قائدین نے بی آر ایس کا نام ٹی آر ایس کرنے کے اشارے دئیے ہیں ۔ بی آر ایس کے یوم تاسیس اجلاس میں اس تعلق سے ایک قرار داد منظور کئے جانے کے قوی امکانات ہیں ۔ واضح رہے کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں شدت پیدا کرنے کے لیے 27 اپریل 2001 میں ٹی آر ایس پارٹی تشکیل دی گئی ۔ قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کے لیے 5 اکٹوبر 2022 کو نام تبدیل کرتے ہوئے بی آر ایس کیا گیا اور سنٹرل الیکشن کمیشن نے بھی اس کو قبول کیا ۔ بی آر ایس قیادت کی اپیل پر ٹی آر ایس نام کو 6 سال تک کے لیے سیز کردیا تھا ۔ بی آر ایس پارٹی میں ایک طرف جہاں پارٹی کا نام تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا ہے وہیں پارٹی قیادت کو ’ کار ‘ انتخابی نشان دوبارہ دستیاب ہونے پر بھی خدشات پائے جاتے ہیں ۔ اس لیے عجلت پسندی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے تمام قواعد کا جائزہ لیا جارہا ہے اور ساتھ ہی قانونی رائے بھی لی جارہی ہے ۔۔ 2