بی جے پی اور انحراف کی حوصلہ افزائی

   

اوپر اوپر پھول کھلے ہیں بھیتر بھیتر آگ
بھاگ مسافر میرے وطن سے میرے چمن سے بھاگ

مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے اپوزیشن کی حکومتوں کو زوال کا شکار کرنے کے الزامات اکثر و بیشتر عائد کئے جاتے ہیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جہاں کہیں اپوزیشن جماعتوں کی ریاستی حکومتیں اقتدار سے بیدخل ہوئی ہیں وہاں بی جے پی نے راست یا بالواسطہ طور پر حکومت حاصل کی ہے ۔ کہیں بی جے پی زیر قیادت حکومت قائم ہوئی ہے تو کہیں بی جے پی اقتدار میں حصہ دار بنی ہوئی ہے ۔ تازہ ترین مثال مہاراشٹرا کی ہے جہاںمہا وکاس اگھاڑی کی حکومت کو بیدخل کردیا گیا ۔ ابتداء میں بی جے پی نے اس سارے بحران سے کوئی تعلق نہ رہنے کا دعوی کیا تھا تاہم بعد میں بی جے پی نے شیوسینا سے بغاوت کرنے والے ایکناتھ شنڈے کی تائید کرتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے میں اہم رول ادا کیا اور خود بھی حکومت میں حصہ دار بن گئی ۔ سابق چیف منسٹر دیویندر فرنویس کو ڈپٹی چیف منسٹر تک بنادیا گیا ۔ اسی تبدیلی سے فوری حرکت میں آتے ہوئے بہار میں چیف منسٹر نتیش کمار نے اپنے خلاف بھی بغاوت کے آثار محسوس کئے ۔ ان کی ہی پارٹی کے ایک لیڈر کو استعمال کرنے کا بی جے پی پر الزام عائد کیا اور پھر نتیش کمار نے این ڈی اے کو خیرباد کہتے ہوئے آر جے ڈی و کانگریس کے ساتھ یو پی اے کی حکومت تشکیل دیدی ۔ اس سے قبل مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے یہی کھیل کھیلا ۔ اس کے علاوہ کرناٹک میں یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا ۔ اس سے قبل گوا میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا ۔ کئی اور ریاستوں میں بھی بی جے پی نے مرکزی اقتدار کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کی حکومتوں کو زوال کا شکار کردیا ۔ اب مغربی بنگال میںممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ ترنمول سے بی جے پی میںشامل ہونے والے متھن چکرورتی مسلسل یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ترنمول کے کئی ارکان اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں۔ ان کا بار بار یہ بیان در اصل ترنمول کانگریس کے ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے اکسانے کی کوشش کے مترادف ہی کہا جاسکتا ہے ۔ وہ اب یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ان سے دو درجن سے زائدا رکان اسمبلی رابطے میں ہیں۔
متھن چکرورتی نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ جو ارکان اسمبلی ان سے رابطے میں نہیںہیں وہ مرکزی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ اس طرح کے بیانات سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کس طرح سے اپوزیشن جماعتوں کی حکومتوں کو زوال کا شکار کرنے کیلئے ارکان اسمبلی کے انحراف کی کوششیں کر رہی ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میںسرگرم علاقائی جماعتوں نے بی جے پی پر اس طرح کے الزامات عائد کئے ہیں۔ خود بی جے پی قائدین مسلسل دعوے کرتے جار ہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں۔ تلنگانہ میں بھی یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ ٹی آر ایس کے کچھ ارکان اسمبلی بی جے پی سے رابطے میں ہیں۔ یہ دعوے کھلے عام ہو رہے ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے مسلسل الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیںاس کے باوجود بی جے پی کی جانب سے انحراف کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیںلے رہا ہے ۔ آج کسی ریاست میں تو کل کسی ریاست میںیہ کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ آج کسی حکومت کو زوال کا شکار کیا جا رہا ہے تو کل کسی اور ریاست کی حکومت کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ ساری کوششیں ملک میںاپوزیشن جماعتوں کے صفائے کیلئے ہو رہی ہیں۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ سارے ملک میںوہی واحد جماعت رہ جائے جسے اقتدار حاصل ہو ۔ وہ کسی اور جماعت کو برداشت کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہے اور ان جماعتوں کو عملا ختم کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے ۔
کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیتے ہوئے ابتداء میںکچھ علاقائی جماعتوں کو ساتھ ملایا گیا تھا اور جیسے جیسے کانگریس کمزور ہوتی گئی ویسے ویسے دوسری علاقائی جماعتوںکو بھی کمزور کرنا شروع کردیا گیا ۔ یہ ساری کوششیںدر اصل سامراجی سوچ کی علامت ہیں اور اس سے ملک کے جمہوری عمل کی نفی ہوتی ہے ۔ یہ جمہوری عمل کے مغائر کوششیں ہیں۔ ملک میںکئی سیاسی جماعتیں ہیں جو عوامی فلاح و بہبود کیلئے اور ملک کے مفادات کیلئے کام کرتی ہیں۔ اگر ساری جماعتوں کو یکے بعد دیگرے کمزور کیا جاتا ہے تو ملک میںجمہوریت کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوجائیگا ۔ ملک کے عوام کو اس صورتحال میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔