بی جے پی تلنگانہ میں بھی گجرات کی حکمت عملی اختیار کرے گی

   

عام آدمی پارٹی اور شرمیلا کو سرگرم کرنے کی کوشش۔ مسلم ووٹوںکی تقسیم کی الگ منصوبہ بندی
حیدرآباد 9 ڈسمبر (سیاست نیوز ) گجرات انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی نے تلنگانہ میں بھی ووٹوں کی تقسیم کی پالیسی اختیار کرنے حکمت عملی تیار کرکے تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ٹی آر ایس کے بی آر ایس میں تبدیل ہونے کے ساتھ بی جے پی نے گجرات کی کامیابی کو نظر میں رکھتے ہوئے تلنگانہ میں بھی ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ دیگر جماعتوں کو انتخابات میں سرگرم حصہ لینے آمادہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ گجرات میں 156 نشستوں پر بی جے پی کی 27سال بعد حکومت کے باوجود کامیابی نے پارٹی قائدین کے حوصلوں میں اضافہ کیا اور وہ گجرات کی حکمت عملی کے تحت تلنگانہ میں بھی مقابلہ کرنے تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں عام آدمی پارٹی کے علاوہ شرمیلا کی نئی پارٹی وائی ایس آر ٹی پی کو بھی تمام حلقہ جات پر مقابلہ کیلئے آمادہ کیا جائیگا اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کیلئے علحدہ منصوبہ بندی کی جائیگی ۔ پارٹی نے تلنگانہ انتخابات کو ملک کے عام انتخابات کے ساتھ کروانے کی جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے متعلق قائدین کا کہنا ہے کہ 2018 اسمبلی میں انتخابات میں ٹی آر ایس نے ریاست میں 46.9 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اور بی جے پی کو محض 7.1 فیصدووٹ ملے تھے ۔ کانگریس نے 2018 میں 28.4 فیصد ووٹ لئے تھے لیکن چند ماہ بعد عام انتخابات میں ٹی آر ایس کے ووٹ شئیر میں 5فیصد کی گراوٹ آئی تھی اور ٹی آر ایس نے 41.29 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ کانگریس کو 29.8 فیصد ووٹ ملے ۔ بی جے پی نے 19.45 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔2018 کے اسمبلی اور 2019 کے عام انتخابات کو نظر میں رکھنے کے علاوہ ریاست میں ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ پارٹی طاقتور موقف حاصل کرسکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق عام آدمی پارٹی تلنگانہ میں پوری شدت سے مقابلہ کی منصوبہ بندی کرنے لگی ہے اور گذشتہ دنوں وزیر اعظم کی جانب سے وائی ایس شرمیلا سے فون پر رابطہ اور انہیں دورہ دہلی پر طلب کئے جانے کے بعد کہا جا رہاہے کہ بی جے پی شرمیلاکو تلنگانہ میں سرگرم کرنے کی کوشش میں ہے علاوہ ازیں بی جے پی اور تلگودیشم کے اتحاد کا بھی امکان ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ بی جے پی ‘ تلگودیشم پارٹی اور پون کلیان کی جنا سینا کا اتحاد ممکن ہے۔م