بی جے پی قائدین میں اقلیتوں سے نفرت کا زہر

   

ڈاکٹر مقتدر خان (امریکہ)
سوشل میڈیا پر میں نے اتفاقی طور پر ایک ویڈیو دیکھا اور اسے دیکھ کر حیران رہ گیا جو بی جے پی اور اس کے لیڈران کی اقلیتوں کے تئیں شدید نفرت کا ایک اور ثبوت ہے۔ وہ ویڈیو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بی جے پی قائدین نے اقلیتوں سے نفرت کو اپنے روز کا معمول بنالیا ہے۔ موہن بھاگوت امریکہ کے دورہ پر ہیں اور وہ امریکہ میں ہندوستان کی تہذیب و ثقافت سے لوگوں کو واقف کروانے کی کوشش کررہے ہیں (ویسے بھی امریکہ میں موہن بھاگوت کی آمد سے پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کئے گئے یہاں تک کہ ان کے ویزے کی منسوخی کا مطالبہ تک کیا گیا) وہ امریکہ میں ہندوستانی اقدار بالخصوص ایثار تحمل اور مشمولیاتی اقدار سے واقف کروانے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن دیکھئے کہ کیسے ریاست کی سرپرستی میں نفرت کی سوداگری کی جارہی ہے۔ آپ کو بتادوں کہ ہندوستانیوں کے ٹیکس سے چلنے والے دوردرشن چیانل پر ایک اشتہار پیش کیا گیا جس میں ایک ماڈل برا میں شریک ہے اور یہ کسی تہوار کا اشتہار ہے، بعد میں اس اشتہار کو ہٹالیا گیا۔ اس شخص کا حالانکہ اسلام سے لینا دینا نہیں ہے لیکن وہ ایک سوال کرتا ہے کہ کنگنا رناوت سے اس بارے میں کنگنا رناوت اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جھوٹ بولتی ہے اور وہ قومی ٹیلی ویژن چیانل پر ساری مسلم کمیونٹی کے بارے میں بُرا بھلا کہتی ہے۔ یہ انڈیا میں روز کا معمول بن گیا ہے۔ یہ بی جے پی قائدین کا روز کا معمول ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار اکثر میرے چیانل پر تبصرہ کرنے والے کچھ لوگ کہتے ہیں ڈاکٹر خان آپ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں لیکن ہندوستان میں آج اقلیتوں کے خلاف نفرت کا پرچار کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس ضمن میں ایک رپورٹ تک جاری کرتے ہوئے ریاست کی جانب سے اقلیتوں کے تئیں تعصب و جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کنگنا رناوت ایک اداکارہ ہے، بی جے پی کی ایم پی ہے، وہ اسلام کے خلاف کھلے عام بکواس کرتی ہے۔ اشتہار کے بارے میں انٹرویو لینے والا جب سوال کرتا ہے تو مسلمانوں کے بارے میں کنگنا رناوت کہتی ہے ’’مجھے لگتا ہے وہاں تو پھر بھی آپ اپنے کزن اور بہنوں سے شادی کرتے ہیں۔ ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں میں ماموؤں سے شادی کرنے کا رواج پایا جاتا ہے، بھانجیوں سے شادیاں کی جاتی ہیں۔ ہم کنگنا کو مشورہ دیں گے کہ جاؤ اور گوگل میں ایسے مذہب کے بارے میں معلومات حاصل کرو اور کنگنا نے جس طرح ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ مسلمان بہنوں سے شادیاں کرتے ہیں وہ جھوٹ ہے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے وہ کس قدر نفرت انگیز باتیں کررہی ہے۔ کیا ایک رکن پارلیمنٹ کو اس قسم کی بکواس کرنی چاہئے، نفرت پر مبنی باتیں کرنی چاہئے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب ہندوستان میں طلبہ نیٹ پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے یہ وہی کنگنا تھی جس نے طالبات کے بارے میں انتہائی توہین آمیز تبصرہ کیا۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ ان کو اتنا حساس ہونا بھی نہیں چاہئے کہ جتنے کہ وہ ہیں لیکن ہماری تہذیب میں تو اتنی باریکیوں سے ہر رشتہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اتنی روایات ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اس سے زیادہ نفرت اور کیا ہوگی؟ وہ اپنی تہذیب اپنے تمدن اپنی روایات کو شاندار بتارہی ہے اور اس بات کا مظاہرہ کررہی ہے کہ ہم انتہائی Sophisticated ہیں اور ایک قومی ٹی وی چیانل پر پیش ہوکر 225 ملین لوگوں کے مذہب اور ان کے اقدار کی توہین کرسکتے ہیں۔ یہ روایت یہ ہندوستان ہے یہ بی جے پی لیڈران ہیں جو اس قسم کی باتیں کرتیہیں۔ کنگنا رناوت کے مطابق ہمارے پاس تو اتنی لکیریں ہیں ساری تہذیب میں اس میں ہم تو بہنوں کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرتے۔ کیا کنگنا رناوت کو نظر نہیں آتا کہ خود ان کے اطراف و اکناف نوجوان لڑکے لڑکیاں کس طرح تہذیب و ثقافت کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔
اب چلتے ہیں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف جنھوں نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا اور کیوں کیا، اس بارے میں ہم آپ کو بتائیں گے۔ پاکستانی وزارت اُمور خارجہ کی پریس ریلیز دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا بیان بڑا عجیب سا تھا، وہ تہران ڈونالڈ ٹرمپ کے قاصد بن کر نہیں گئے بلکہ وہ ایک ثالث کے طور پر گئے تھے۔ یہ اپنی طرف سے ثالث نہیں بن سکتے۔ دوسرے ملکوں کے لئے آپ کوشش کرلیں گے میں ثالث بنوں گا تو آپ کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ 2026ء میں عاصم منیر ایران تین مرتبہ جاچکے ہیں اور ایک بار بھی واشنگٹن نہیں آئے تو وہ کیسے ثالت کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس عدم توازن کی صورتحال میں وہ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہیں پھر ایران جاکر شخصی طور پر ملاقات کرتے ہیں وہاں کی قیادت سے ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران میں فون نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہاں عدم توازن ہے۔ تہران کا شخصی طور پر دوروں کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایران کو سمجھا رہے ہیں کہ ہماری بات مان لو۔ آبنائے ہرمز کھول دو، اس میں آپ کی بہتری ہے۔ ایک کو فون اور دوسرے ملک کا دورہ یہ عدم توازن ہے۔ ہمیں یہ نہیں فراموش کرنا چاہئے کہ عاصم منیر کس کے ایمبیسڈر یا سفیر ہیں۔ اگر ٹرمپ نہیں چاہتے تو یہ ثالثی صفر بھی نہیں ہوتی۔ اگر ایران نہیں بھی چاہتا اور ٹرمپ کہتے کہ ہم صرف ان کے توسط سے بات کریں گے تو انھیں بات کرنا ہی پڑتا۔ یہ تو واضح ہے دوسری چیز یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ ان کے ایران جانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عاصم منیر وہاں کھل کر بات کرسکیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا دورہ مکہ دفاعی معاہدہ سے واقف کروانے کے لئے بھی تھا۔