بی جے پی کو ڈیجیٹل شکست

   

بہار میں سوشل میڈیا انفلوئنزر کو لالچ

روش کمار
آر ایس ایس ایک رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے حالانکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ و ثقافتی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور بی جے پی اسی غیر رجسٹر شدہ تنظیم کے اصولوں اور نظریات پر چلتی ہے اور اس پارٹی میں پارٹی کی جگہ آئی ٹی سیل کا کردار اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ اس کی چرچہ زیادہ ہورہی ہے کہ بی جے پی میں سوشل میڈیا کا نیا سربراہ کون بنا ہے اور وہ کیا کرے گا؟ دیکھنے میں یہ سیدھا سادھا بدلاؤ لگ سکتا ہے لیکن جس ڈیجیٹل ایپس پر بی جے پی اور مودی حکومت راج کرتی رہی ہے کسی بھی پوسٹ کو کہیں سے بھی اڑا دیتی ہے۔ اس ڈیجیٹل ایپس پر بی جے پی کی بڑی ہار ہوئی ہے۔ بی جے پی کی اس digetal defeat کو آپ کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کرسکتے اسی سے بی جے پی کی آئی ٹی سیل یا سوشل میڈیا ٹیم میں بدلاؤ جڑا ہوا ہے۔ کیا بی جے پی نئی ٹیم کے دم پر اس ڈیجیٹل شکست کو پھر سے کامیابی میں تبدیل کرپائے گی۔ 2014ء سے لیکر 2024ء تک سوشل میڈیا پر بی جے پی کا یکطرفہ دبدبہ رہا۔ 2024ء کے عام انتخابات میں تھوڑا کمزور ہوا مگر جولائی 2026ء کے ماہ میں پوری طرح کمزور ہوگیا۔ اس درمیان اپریل اور مئی میں بہت بڑا واقعہ پیش آیا۔ مغربی بنگال کے انتخابات میں بی جے پی کی جیت میں آئی ٹی سیل کے کردار کی کم چرچہ ہوئی۔ مرکزی حکومت کی ایجنسیوں اور ایس آئی آر کے کردار کو جیت کی وجوہات بتایا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ آئی ٹی سیل بھی فکرمند ہونے لگا۔ اپنے اسی پروپگنڈہ کا بار بار سرکیولیشن کرنے لگا جو 2014ء سے کرتا آرہا تھا۔ مخالفین کو تنقید کرنے والوں کو مسلم پرست اور ہندو مخالف دکھاتے رہنے کے جال میں پھنسا ہی رہ گیا۔ اسی درمیان اسی سوشل میڈیا سے ایک پوسٹر پارٹی ابھرتی ہے۔ جنترمنتر پر کاکروچ جمع ہوتے ہیں۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور گودی میڈیا دونوں کو ڈھول مٹی میں ملادیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا یہ ضرور جانئیے۔ بی جے پی اپنی ویب سائیٹ پر آئی ٹی اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے۔ آئی ٹی سیل نہیں کہتی مگر میڈیا اور سوشل میڈیا اور تبصروں و تجزیوں میں آئی ٹی سیل ہی کہا جاتا ہے۔ 2014ء کے بعد سے بی جے پی کے حامیوں کے پلیٹ فارمس سے نفرت، جھوٹ اور پروپگنڈہ کے جو پکوان تیار کئے گئے اس کی خوشبو کی لپیٹ میں ملک کی سیاست ایک طویل مدت تک پھنسی رہی۔ ان نئے مواد کی تیاری کا ذمہ دار کئی بار امیت مالویہ کو ٹھہرایا گیا تو کئی بار بی جے پی کی آئی ٹی سیل سے جوڑا گیا مگر اس کی خوشبو کو واٹس ایپ انکلس، گودی میڈیا اور اس کے حامی عطر سمجھ کر لگاتے رہے اور پھیلاتے رہے یعنی وائرل کرتے رہے۔ سب کو اس خوشبو کی لت پڑ گئی مگر عوام بور ہونے لگ گئی وہ اکتا گئی اور سوچنے لگی کہ کب تک یہ سب چلتا رہے گا اور یہی سب چلے گا۔ پٹنہ، دہلی، ممبئی یا کسی بھی شہر میں نالے کے کنارے رہنے والے کروڑوں لوگ حکومت سے ناامید ہوکر اس سے ہار کر بدبو کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں انہیں اسی میں کھانے پینے اور سونے کی عادت پڑ جاتی ہے لیکن اس بدبو زدہ ماحول سے نکل کر ایک دن لڑنے بھی آجاتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے اس بار گالیوں کو لیکر بہت دیر تک وکٹم کارڈ کھیلنے کی کوشش نہیں کی بس معاف کردینے کا ڈرامہ کیا۔ جینزی کو فرینڈس کہنے لگے۔ جنترمنتر پر جب کچھ لوگ گالیاں دے رہے تھے تب گودی میڈیا نے ان گالیوں کو لیکر بحث کا موضوع نہیں بنایا۔ جب جنترمنتر پر GEN-Z چلے گئے تب انہیں اکیلا سمجھ کر ان کے گھروں تک کیمرے بھیجے گئے۔ بعد میں وہ بھی بند کرنا پڑا۔ 19 اپریل 2023ء کو وزیراعظم مودی نے بیدر میں گن کر بتایا تھا کہ کانگریس نے انہیں 91 قسم کی گالیاں دیں۔ مودی کا کہنا تھا ’’میں نے دیکھا کسی نے ان گالیوں کی فہرست تیار کی ہے اور وہ گالیوں کی لسٹ مجھے دی ہے اب تک مجھے یہ کانگریس کے لوگوں نے 91 وقت الگ الگ گالیاں دی ہیں۔ ساتھیو کانگریس کے ایک لیڈر نے مجھے گندی نالی کا کیڑا کہا تو دوسرا مجھے گنگوتیلی کہنے لگا۔ ان کے ایک لیڈر نے مجھے پاگل کتا کہا تو دوسرا سامنے آیا اور مجھے بسماسور کا لقب دے دیا۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر ہیں ملک کے وزیرخارجہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مجھے بندر کہا۔ ان کے ایک اور سابق وزیر نے مجھے وائرس کہا تو دوسرے نے داؤد ابراہیم کا درجہ دے دیا۔ ان کے ایک لیڈر نے مجھے ہٹلر کہا تو دوسرے نے مجھے بدتمیز نالائق بیٹا قرار دیا۔ اتنا ہی نہیں مجھے Rabies بیماری سے متاثر بندر بولا گیا۔ چوہا بولا گیا، لہو پر ش بولاگیا، جھوٹ کا سوداگر بولا گیا۔ ساتھیو کانگریس کے نیتاؤں نے مجھے راون، سانپ، بچھو، گندہ آدمی، زہر بونے والا تک کہا۔ کانگریس کے لیڈروں نے مجھے موت کا سوداگر کہا۔
2014ء کے بعد سے سوشل میڈیا میں بی جے پی پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا تھا۔ سوال کرنے والے صحافیوں کی ماؤں کو گالیاں دی گئیں۔ گوری لنکیش کو گالی دی گئی۔ وزیراعظم مودی نے ایسے کئی لوگوں کو فالو کیا جو سوشل میڈیا کے ایپس میں گالیاں دیتے تھے جھوٹ پھیلاتے تھے۔ انہیں اس بات سے فرق ہی نہیں پڑا کہ عوام کیا سوچے گی کہ کسی گالی دینے والے کو ہندوستان کے وزیراعظم فالو کررہے ہیں۔ اس پر میڈیا میں آپ کو کئی رپورٹس مل جائیں گی۔ ا میت مالویہ کو کبھی اپنے کردار کے بارے میں لکھنا چاہئے۔ لکھنا ہی پڑے گا کہ انہوں نے لنگ سے لیکر مذہب کی بنیاد پر گالیوں کی کھوج کی۔ انہوں نے گالیوں کو لکھنے کا طریقہ تبدیل کرنے لگایا۔ تصویروں کے ذریعہ بھی گالیاں گڑھی گئیں۔ ہمارا سوال ہیکہ بی جے پی کی نئی سوشل میڈیا ٹیم امیت مالویہ کے بنائے راستے پر ہی چلے گی یا گالیوں کی دھار اور تیز کرے گی ؟ کیا وہ اپنے ٹرولنگ پاور سے GEN-Z کا مقابلہ کرپائے گی۔ نیٹ امتحان میں OMR تنازعہ کے بارے میں ٹوئیٹ کرتے ہوئے امیت مالویہ ایک بات کرتے ہیں۔ کبھی کوئی غلط بیانی نہیں کی۔ جھوٹ اور افواہ نہیں پھیلائی۔ عام شہریوں سے لیکر صحافیوں کو ٹرول نہیں کیا گیا۔ امیت مالویہ کی جگہ جس دیپک کو سوشل میڈیا کا سربراہ بنایا گیا ہے ان کی عمر 58 سال ہے۔ امیت مالویہ 2015ء سے بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ تھے۔ گیارہ برسوں تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ اس دوران صدر بی جے پی کے عہدہ پر امیت شاہ آئے چلے گئے۔ جے پی نڈا آئے چلے گئے ان کی جگہ نتن نبین آئے مگر امیت مالویہ بنے رہے۔ جے پی نڈا 6 سال تک بی جے پی کے قومی صدر رہے ہیں ان کا ایک بھی خطاب آپ کو یاد نہیں ہوگا کیونکہ صدر بی جے پی سے زیادہ بی جے پی کا آئی ٹی سیل پارٹی کا بیان گھڑ رہا تھا۔ اس بیانیے کو کنٹرول کررہا تھا۔ بی جے پی امیت مالویہ کو آسانی سے بھلا سکتی ہے مگر فیک نیوز، نفرتی پوسٹرس پر ریسرچ کرنے والے دانشور انہیںکبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ ابھی بھی کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں آگے بھی لکھی جائیں گی۔ یونیورسٹی میں ریسرچ ہورہی ہے کہ ایک پارٹی نفرتی اور فیک پوسٹ سے عوام کو کیسے متاثر کرسکتی ہے۔ بزدل بناسکتی ہے۔ سماج کو تقسیم کرسکتی ہے، ووٹ لے سکتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس کی وجہ سے آئی ٹی سیل کا نیا سربراہ کون ہے اس کی ٹیم کے نئے ارکان کون ہیں اس کی چرچا زیادہ ہورہی ہے۔ صدر پارٹی کی طاقت بھی آئی ٹی سیل کے آگے کمزور لگتی ہے۔
اب بات کرتے ہیں بہار کی بہار میں حکومت اس ویڈیو کے 10 ہزار دینے جارہی ہے جس کے Views کی تعداد ایک لاکھ ہوگی۔ اگر دس لاکھ ویوز ہوں گے تو ایک لاکھ روپئے دے گی لیکن اسی ویڈیو کو پیسہ ملے گا جو سرکاری اسکیمات کی تشہیر کرے گا یعنی حکومت کی تعریف کرے گا اور اگر لوگ اس تعریف کو دیکھیں گے تو حکومت پیسہ دے گی ورنہ ایک راستہ اور ہوسکتا ہے ووٹ کے ذریعہ ویوز خرید لینے کا، عوام کا پیسہ ہڑپ لینے کا۔ حکومت چاہے تو اپنے کام کا اشتہار گوگل پر آرام سے دے سکتی ہے۔ فیس بک پر تو دیتی ہی ہے۔ اخبارات اور گودی میڈیا چینلوں کو بھی دیتی ہے پھر ایسا کیا ہورہا ہے؟ کیوں ہورہا ہے کہ دس دس ہزار بانٹنے کی سوشل میڈیا پالیسی بنائی جارہی ہے۔ بہار میں انتخابات جیتنے کیلئے سوا کروڑ خواتین کے کھاتوں میں دس ہزار روپئے ڈال دیئے گئے مگر اپنی شبیہ بنانے اور بچانے کیلئے گنتی کے کچھ Conteut Creators کو 10 ہزار سے ایک لاکھ روپئے دینے کے خواب دکھائے جارہے ہیں۔ کیا حکومت بہار یہ بھی بتائے گی کہ کس گودی میڈیا چیانل کو کتنے کروڑ روپئے کے اشتہارات پچھلے 5 برسوں میں دیئے گئے۔ ماہ کے حساب سے سال کے حساب سے کتنے کروڑ دیئے گئے۔ سوشل میڈیا پالیسی میں ویوز کی شرط دلچسپ ہے ورنہ اپنے پیسے حکومت کے چاپلوس صحافیوں میں بانٹ دیئے جاتے ہیں اور ویوز آتے بھی نہیں۔