بی جے پی کی پلٹ وار کی کوششیں

   

ڈر ہے اس سے نہ جاگے کوئی انقلاب
ایک طوفان کا پلنا بھی جرم ہے ان دنوں
ملک بھر میں ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج نے سارے ملک کی توجہ حاصل کرلی ہے ۔ جس طرح سے پیپر لیک کے مسئلہ پر شروع ہوا مختصر سا احتجاج ایک قومی احتجاج میں تبدیل ہوگیا تھا اسی طرح سے ووٹ چوری اور گیانیش کمار کے خلاف احتجاج نے بھی سارے ملک کی توجہ حاصل کرلی ہے ۔ اس بات مسئلہ کسی پیپر لیک یا کچھ ہزار بچوں کا نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانی شہریوں کا ہے جن کے ووٹ ایک خاص مقصد کیلئے ووٹر لسٹ سے خارج کردئے گئے تھے ۔ اس ووٹ چوری کے ذریعہ بی جے پی کو کئی ریاستوں میں انتخابات میں کامیابی دلائی گئی تھی جبکہ حقیقت میں بی جے پی انتخابات میں فاتح نہیں بن رہی تھی ۔ تاحال 13 کروڑ رائے دہندے ووٹر لسٹ سے مختلف ریاستوں میں خارج کردئے گئے ہیں۔ یہ ایک بڑی تعداد ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ یوروپی یا ایشیاء کے کسی چھوٹے ملک کی مکمل آبادی کے برابر ہے ۔ اس کے خلاف مختلف گوشوں کی جانب سے احتجاج شروع کردیا گیا ہے ۔ طلباء برادری خاص طور پر اس میں آگے آئی ہے ‘ ملک کے نوجوان اس میں حصہ لے رہے ہیں ‘ وکلا ء برادری بھی سڑکوںپر اتر آئی ہے ۔ سیول سوسائیٹی کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور اتحاد بھی پوری شدت کے ساتھ یہ مسئلہ عوام میں اٹھا رہے ہیں۔ یہ لڑائی سپریم کورٹ تک بھی پہونچ گئی ہے ۔ عدالت میں مختلف درخواستیں دائر کرتے ہوئے اس مسئلہ کو عدالت سے رجوع کردیا گیا ہے ۔ عدالتوں میں ان درخواستوں کی سنوائی چل رہی ہے ۔ اس طرح سے یہ مسئلہ سارے ملک میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور ہر گوشے میں اس پر بحث اور تبادلہ خیال ہو رہا ہے ۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو ہر محاذ پر گھیرا جا رہا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کمیشن اس پر مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور بی جے پی اس کی مدافعت میں سردھڑ کی بازی لگارہی ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ بی جے پی اپنی جانب سے پلٹ وار کرنے کی کوشش ضرور کرے گی اور وہ اس کی شروعات کر بھی چکی ہے ۔
اصل سوال اور اصل مسئلہ سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی کی جانب سے نت نئے ہتھکنڈے اور حربے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ عوامی موڈ کو بدلنے کیلئے حکمت عملی بنائی جا رہی ہے ۔ سوال ایک کیا جا رہا ہے اور اس کا جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی اس سارے احتجاج کا مرکز بن گئے ہیں اور ان کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جائے گا ۔ ان کے خلاف پہلے ہی درجنوں مقدمات ہیں اور اب نت نئے انداز سے مزید مقدمات درج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ دوہرے معیارات اور ڈوغلا پن اختیار کیا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی کے خلاف ایک خاتون صحافی کو استعمال کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہوںنے خاتون صحافی کو دھکا دیا ہے ۔ اس واقعہ کا ویڈیو سامنے آگیا ہے اور اس میں ایسی کوئی حرکت دکھائی نہیں دیتی ۔ دوسری جانب سے ایک خاتون صحافی نے ایک اے سی پی کے خلاف جنسی دست درازی کی شکایت درج کروائی گئی ہے اور خاتون شکایت کرنے بارہا پولیس اسٹیشن پہونچی ہے لیکن اس اے سی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے اسے ترقی دی گئی اور اعلی عہدہ پر فائز کردیا گیا ہے ۔ اس طرح بی جے پی ملک کی خواتین کے ساتھ بھی انصاف کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ خواتین کے ساتھ دست درازی کے معاملے میں بھی سیاست کرتے ہوئے فائدہ اٹھانے اور مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
مختلف گوشوں سے الگ الگ طرح کا پروپگنڈہ بھی شروع کروادیا گیا ہے ۔ اپنے آلہ کاروں کو میدان میں اتار دیا گیا ہے ۔ آئندہ وقتوں میں مزید حربے اور ہتھکنڈے اختیار کئے جاسکتے ہیں۔ حالات کا رخ بدلنے کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ عوام کے جذبات کو تبدیل کرنے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری صورتحال کو نظر میں رکھا جائے ۔ مکمل چوکسی اور احتیاط کے ساتھ کسی بھی حربے کو کامیاب ہونے کا موقع نہ دیا جائے اور جو تحریک ووٹ چوری کے خلاف شروع ہوئی ہے اسے مزید مستحکم کیا جائے ۔