بی جے پی کے انتخابی جھانسے

   

ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ انتخابی عمل کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت کی جانب سے زبردست سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ امیدواروںکا اعلان ہوچکا ہے ۔ امیدواروں نے اپنے پرچہ جات نامزدگی داخل کردئے ہیں۔ ہر جماعت کی جانب سے انتخابی مہم کا آغاز بھی کردیا گیا ہے ۔ انتخابی منشور جاری کئے جا رہے ہیں۔ عوام سے مختلف وعدے کئے جا رہے ہیں۔ ان کی تائید اور ان کے ووٹ حاصل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے انتحابی وعدوں کا سلسلہ شرو ع ہوچکا ہے اور کئی وعدے کرتے ہوئے عوام کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے حسب روایت حالات کو دیکھتے ہوئے فرقہ وارانہ نوعیت کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے اور ایسے مسائل کو اٹھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جن کا راست ترقیاتی امور سے اور عوام کے روز مرہ کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بی جے پی صرف مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور بھی ہر ریاست کیلئے جاری کیا جا رہا ہے اور ہر ریاست میں الگ الگ وعدے کئے جا رہے ہیں۔ ایک طرح سے ہر ریاست میں عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ مغربی بنگال میں بی جے پی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ در اندازوں کی نشاندہی کرے گی اور ملک کی جو سرحدات ہیں ان کی 45 دن کے اندر فینسنگ کردی جائے گی ۔ سوال یہ ہے کہ سرحدات کی فینسنگ اور نگہبانی مرکزی حکومت کا ذمہ ہے تو 12 سال کے اقتدار میں بی جے پی حکومت نے یہ فینسنگ کیوں نہیں ۔ اب بنگال اسمبلی انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے عوام سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔ جو کام محض دیڑھ مہینے میں ہوسکتا ہے بی جے پی نے 12 سال اقتدار میں رہتے ہوئے انجام نہیں دیا ۔ اس سے بی جے پی کی سرحات کے تعلق سے لاپرواہی کا پتہ چلتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی انتخابی فائدہ اٹھانے یہ مسئلہ اچھال رہی ہے ۔
بی جے پی نے جہاں بنگال میں سرحدات کی فینسنگ کا وعدہ کیا ہے وہیں آسام میں عوام سے یہ وعدہ کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا ۔ یکساں سیول کوڈ کا جہاں تک سوال ہے تو یہ مرکزی حکومت کا ذمہ ہے ۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ کئی ریاستوں کی اسمبلیوں میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے تعلق سے قرار داد منظور کی گئی ہے ۔ مرکزی حکومت نے تاحال اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ یہاں بھی یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ 12 سال سے مرکز میں برسر اقتدار رہنے کے باوجود بی جے پی نے ملک بھر میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ اس معاملے میں بھی بی جے پی سیول کوڈ پر نفاذ سے زیادہ سیاست کرنے اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک گیر سطح پر فیصلہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے اور ریاستی سطح پر انتخابی فائدہ حاصل کرنے کیلئے اس کا وعدہ کیا جا رہا ہے ۔ اس معاملے میںبھی بی جے پی ایک طرح سے آسام کے عوام کو جھانسہ ہی دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی نے تاحال اس مسئہ پر یا پھر اپنی جانب سے ماضی میں مختلف ریاستوں میں کئے گئے انتخابی وعدوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے صرف عوام کو جھانسہ ہی دیا ہے ۔ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بھی یہی کچھ طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے ۔ آسام ہو یا پھر مغربی بنگال ہو یہاں کے عوام کو بی جے پی کے جھانسہ میںآنے سے گریزکرنے کی ضرورت ہے ۔
اسی طرح کیرالا میں بی جے پی نے وعدہ کیا ہے کہ ہر سال اونم اور کرسمس کے موقع پر عوام کو دو گیس سلینڈرس مفت سربراہ کئے جائیں گے ۔ بی جے پی نے دہلی میں سالانہ پانچ سلینڈرس مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ وہاں اقتدار حاصل کئے اسے ایک سال ہوچکا ہے تاہم ابھی تک کوئی سلینڈر مفت سربراہ نہیں کیا گیا ہے ۔ جہاںاقتدار ہے وہاں تو یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ کیرالا میں نیا وعدہ کیا جا رہا ہے ۔ اس وعدہ میں بھی جھانسہ ہے اور ساتھ ہی فرقہ وارانہ تعصب بھی ہے ۔ محض اونم اور کرسمس کا وعدہ کیا گیا ہے اور مسلم تہواروں اور عیدوں کو نطر انداز کردیا گیا ہے ۔ بی جے پی کے اس جھانسہ سے تمام ووٹرس کو چوکس رہنا چاہئے ۔