اے دل قضا نہ آئے ادھر ٹکٹکی نہ باندھ
گولی کا سامنا ہے یہ نظاہرہ خال کا
ممبئی میں اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ۔ اداکار جوہو میں فٹبال کھیلنے کے بعد اپنی کار میں واپس ہو رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کردی گئی ۔ اچھی بات یہ رہی کہ ٹائیگر شراف اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ ان کے ڈرائیور اور ایک اور شخص کو زخم آئے ہیں۔ حسب توقع حملے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس نے ٹائیگر شروف پر حملے کرنے والے تینوں ہی حملہ آوروں کو راجستھان میں کوٹا شہر سے گرفتار کرلیا ہے ۔ ضرور ان ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ ملک میں اور خاص طور پر بالی ووڈ اسٹارس کو نشانہ بنانے میں بشنوئی گینگ بے لگام ہوگئی ہے ۔ مسلسل دھمکیاں دینا یا کسی کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنانا اس گینگ کا عام کھیل ہوگیا ہے ۔ سوپر اسٹار سلمان خان کو نشانہ بنانے کا دعوی کرنے والی بشنوئی گینگ اب دوسروں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے ۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ کنیڈا میں بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور گذشتہ دنوں وہاں کامیڈین کپل شرما کے کیفے پر حملہ کیا گیا تھا وہاں بھی فائرنگ کی گئی تھی ۔ اسی طرح ملک میں کئی اور وارداتوں میں بشنوئی گینگ کے ملوث رہنے پتہ چلتا رہا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گینگ بے لگام ہوگئی ہے اور کسی کو خاطر میں لائے بغیر دھڑلے سے جرم پر جرم کئے جا رہی ہے ۔ ساری صورتحال میں یہ شبہات تقویت پا رہے ہیں کہ یہ گینگ سیاسی پشت پناہی یا سرپرستی میں کام کر رہی ہے جو اسے بالواسطہ طور پر حاصل ہے ۔ گینگ کا سربراہ لارنس بشنوئی احمد آباد کی جیل میں قید ہے ۔ اسے دہلی کی جیل میں رکھا گیا تھا تاہم بعد میںاسے احمد آباد منتقل کردیا گیا اور یہ شرط عائد کردی گئی ہے کہ لارنس بشنوئی سے کسی بھی ریاست کی پولیس کو پوچھ تاچھ کرنی ہے تو اسے خود احمد آباد آنا پڑے گا اور بشنوئی کو احمد آباد کے باہر نہیں لیجایا جاسکتا ۔ یہ کام عملا بشنوئی کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ قیدیوں کی سلامتی بھی یقینی بنائی جانی چاہئے تاہم اس گینگ کو بے لگام انداز میں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی کسی کو بھی حملوں کا نشانہ بنانے کی گنجائش ہونی چاہئے ۔
یہ اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں کہ بشنوئی گینگ بالی ووڈ پر اپنا غلبہ جمانا چاہتی ہے ۔ جو اثر کسی زمانے میں بالی ووڈ پر ممبئی انڈر ورلڈ کا رہا تھا وہ بتدریج ختم ہوگیا ہے ۔ ممبئی پولیس یا دوسری نفاذ قانون کی ایجنسیوں نے اس نیٹ ورک کو عملا بے کار کردیا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ بالی ووڈ انڈر ورلڈ کے اثر سے آزاد ہوگیا ہے ۔ یہ ایک اچھی علامت تھی تاہم ایسا لگتا ہے کہ جو خلاء ممبئی انڈر ورلڈ کی دوری سے پیدا ہوا تھا وہ شائد بشنوئی گینگ پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ سلمان خان کو نشانہ بنانا ‘ کپل شرما کے کیفے پر فائرنگ اور پھر اب ٹائیگر شروف پر حملہ کی کوشش ۔ یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ سلمان خان محض ایک ٹارگٹ بنائے گئے ہیں اور ان کی آڑ میں سارے بالی ووڈ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ٹائیگر شروف کے تعلق سے بھی کہا گیا ہے کہ سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور جو کوئی سلمان خان کے ساتھ کام کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا ۔ بشنوئی گینگ کی یہ غیر قانونی سرگرمیاں قابل تشویش حد تک بڑھ رہی ہیں۔ حالانکہ مہاراشٹرا حکومت دعوی کرتی ہے کہ کسی بھی گینگ کو پنپنے یا اس طرح کی سرگرمیوں میںملوث رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تاہم یہ سرگرمیاںجاری ہیں۔ یکے بعد دیگرے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان واقعات کا مکمل سدباب اور روک تھام ضروری ہوگیا ہے ورنہ بالی ووڈ میں اگر خوف کا ماحول پیدا ہوجائے تو اس سے ممبئی کی معیشت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔
بات صرف بشنوئی گینگ یا کسی ایک گینگسٹر تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ نظم و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی ہے ۔ چاہے کوئی بھی ہو کسی کو بھی قانون کی خلاف ورزی کرنے یا کسی کو دھمکانے ‘ مارنے ‘ فائرنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوںپر روک لگانے کیلئے منظم کارروائی کرے ۔ ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہونچانے میں کسی طرح کے تحفظات سے کام نہ لیا جائے بلکہ قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ڈر و خوف کے ماحول کو ختم کرنے پر توجہ دے ۔